1947 کی بے ہنگمی نے گریٹر کراچی کے دریائے سندھ ک
ے کنارے پر ایک مزدور کی زندگی کو ایک ہی لمحے میں
تبدیل کردی۔ سیکولر ہند کے خاتمے کے ساتھ ساتھ، گ
ھر کے احترام کا ایک اور آدمی، اس کے ہاتھوں سے چل
ا گیا۔ وہ اب ہجرت کے سفر پر تھا، ایک مقدمے کی پی
روی کے طور پر، جس کا فیصلہ اس کے باپ کے قبرستان
میں لکھا گیا تھا۔
اس کی دل کی چاہت، ایک صوفی کے نام کے ساتھ، اس کے
ساتھ ہی چلتی رہی۔ اس کے دل میں ایک غم تھا، ایک
چھوٹا سا شعر، جسے وہ نہیں پڑھ سکتا تھا۔ اس نے اپ
نی زندگی کے ہر لمحے کو اس شعر کے ساتھ جوڑ دیا۔ ا
س کی روح اس کے ذہن میں رہتی تھی، اور اس کی آنکھو
ں میں اس کی تصویر۔
تقسیم کے بعد کے دنوں میں، جب لاہور سے کراچی کی ط
رف ہجرت کا سفر ہو رہا تھا، اس نے ایک حویلی کے گی
ٹ پر ڈھیلے کے پیچھے ایک لڑکی کو دیکھا۔ اس کے چہر
ے پر ایک چھوٹا سا سمندر تھا، جس میں اس کی بے ہنگ
می کی ہر گھڑی کا منظر دیکھا جا سکتا تھا۔ اس نے ا
سے اپنی زندگی میں داخل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس
کی مادرزادی کی بے حماقت اسے اس سے دور کر دی۔
اس کی ہر حرکت، اس کے دل کے ایک اور تابو کے ساتھ
جڑی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں
اپنی روح کو اس لڑکی کے ساتھ چھوڑ دیا، اور اس کے
ہاتھوں میں ایک لکڑی کی چھوٹی سی چیز رکھ کر اس ک
ی ہر ہر چھوٹی سی بات کو یاد کیا۔
جس دن اس کی لڑکی کی ہر چھوٹی سی چیز کو اس کی ہر
چھوٹی سی بات کے ساتھ جوڑ دیا گیا، اس نے اپنی زند
گی کا آخری لمحہ اس کے ہاتھوں میں گزارا۔ اس کے ہا
تھوں میں اس کی ہر ہر چھوٹی سی چیز کا احساس تھا،
اور اس کے دل میں اس کے ساتھ ایک ہی لمحہ کا احساس
تھا۔
اس کی ہر ہر چھوٹی سی چیز، اس کے دل میں ایک ہی لم
حہ کا احساس تھا۔ اس کی ہر ہر چھوٹی سی بات، اس کے
دل میں ایک ہی لمحہ کا احساس تھا۔ اس کی ہر ہر چھ
وٹی سی بات، اس کے دل میں ایک ہی لمحہ کا احساس تھ
ا۔


