لاہور کی پرانی آبادی میں ایک ویران حویلی کے صحن
میں، برسوں سے لڑکیوں کے لیے قائم کردہ اسکول کے ت
ختے دیوار سے اُتار کر دیگ میں جلائے جا چکے تھے۔
1952 کے موسمِ گرما میں، ایک فوجی افسر نے حکم دیا
تھا کہ "تعلیم نامحرم نظر کے تحت نہ آئے"
;، اور اس
کے بعد سے ہر کتاب، ہر رجسٹر، ہر تقریر کا مسودہ
غائب کر دیا گیا۔ گھر کی ملکن، بی بی جان، نے عورت
وں کے لیے چھپے ہوئے درسگاہ کا نظام قائم کیا، مگر
ان کے خطوط، شعر، اور طالبات کے نام کے دستخط وال
ے کاغذات دیوار کے خفیہ خانوں میں دفن ہو گئے۔
2023 میں، نوجوان صحافی عمران حیدر، جس کی ماں اسی
حویلی کی سابقہ طالبہ تھی، وراثت میں ملنے والی ک
نجی سے حویلی کا دروازہ کھولتا ہے۔ وہ دیوار کے پی
چھے سے تین بکس نکالتا ہے: کالے برتن میں جلے ہوئے
کاغذات، ایک لکڑی کے تختے پر کندہ "علم نور ہ
ے"،
اور ایک نامعلوم لڑکی کا آخری رسالہ، جس میں لکھا
تھا کہ "مجھے پڑھنا ہے، چاہے قبر میں جانا پڑ
ے"۔
عمران کی تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے۔ وہ لاہور یونیو
رسٹی کے قدیم ریکارڈز، پرانی PTV فوٹیج، اور مقامی
قبرستان میں دفن شدہ خاندانی ناموں کی تصدیق کرتا
ہے۔ ایک دن، وہ ایک پرانی کیسٹ ملتی ہے جس پر "خو
اتین کا اجتماع – 1954" لکھا ہے۔ اس میں بی بی جان
کی آواز ریکارڈ تھی، جس میں وہ کہتی ہیں: "ہم علم
کو دفن نہیں ہونے دیں گی" — یہ واحد بولی گئی لائ
ن، جو باقی نہیں رہی، مگر عمران کے دماغ میں گونجت
ی رہتی ہے۔
جب وہ اپنی رپورٹ تیار کرتا ہے، تو اس کے دفتر کے
باہر دو مردوں کی گاڑی کھڑی رہتی ہے۔ ایک ہفتہ بعد
، اس کا کمپیوٹر ہیک ہو جاتا ہے، تمام فائلیں غائب
ہو جاتی ہیں۔ وہ کاغذی نوٹس، فلمی ریلس، اور تصاو
یر کو ایک ایسے پبلشر کے پاس لے جاتا ہے جو 1970 ک
ی دہائی سے پُرانی کہانیاں محفوظ کرتا ہے۔
راستے میں، ایک موٹرسائیکل سوار اس کے سامنے گاڑی
روک دیتا ہے۔ عمران ڈر کے مارے رک جاتا ہے، مگر سا
ئیکل سوار صرف ایک لفافہ گرنے دیتا ہے — اس میں بی
بی جان کی آخری تصویر تھی، جس کے ہاتھ میں ایک کت
اب تھی، اور پیچھے لکھا تھا: "اگر یہ تم تک پہنچے،
تو سچ بول دینا"۔
اگلے دن، "آزادیِ علم" کے عنوان سے ایک
خصوصی ایڈی
شن شائع ہوتا ہے، جس میں عمران کی تحقیق، تصاویر،
اور بی بی جان کے الفاظ شامل ہیں۔ ایک ہفتہ بعد، ل
اہور ہائی کورٹ کے باہر نوجوان خواتین نے وہی لکڑی
کا تختہ اٹھا رکھا تھا جو حویلی کی دیوار سے نکال
ا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا، مگر تین دن
بعد، تعلیمی بورڈ نے اعلان کیا کہ اب سے ہر تحصیل
میں کم از کم ایک "بی بی جان لائبریری"
قائم کی جا
ئے گی۔ عمران کا دفتر خالی ہو چکا تھا، اس کی گاڑی
لاہور سے باہر کی سمت نکل چکی تھی۔
حویلی کی دیوار پر، ایک نئی تختی لگائی گئی: "یہاں
علم مر نہیں سکتا"۔


