1963 کے آخر میں، لاہور کے محلے میں ایک قدیم حویل

ی میں، زینب، ایک باغی طالبہ، کالج کی دیواروں پر

چپکائی گئی تحریروں کی وجہ سے پولیس کے ہاتھوں گرف

تار ہوئی۔ اس کے خلاف "سماجی اشتعال" کا

مقدمہ درج

کیا گیا، اور اسے سات ماہ قید کا سامنا کرنا پڑا۔

قید کے دوران، اس کی روزمرہ کی ڈائری، جس میں صوف

ی اشعار اور فرانسسی فلسفیوں کے حوالے تھے، حکومت

کے ایجنٹوں کے ہاتھ لگی، جنہوں نے اسے "غیر ملکی م

تاثرہ ذہن" قرار دیا۔

رہائی کے بعد، وہ اپنے خاندان کی حویلی واپس لوٹی،

جہاں عزیزوں نے اس کی شادی ایک بوڑھے زمیندار سے

طے کر دی، تاکہ "معاشی استحکام" اور &qu

ot;اخلاقی بحالی

" دونوں حاصل ہوں۔ شادی سے قبل کی رات، زینب نے اپ

نی ماں کی دعا کی کتاب میں چھپا ہوا ایک پرانا الی

کشن پوسٹر دیکھا — 1947 کا، تقسیم کے فوراً بعد کا

، جب اس کی دادی، محترمہ صفیہ، ایک غیر رسمی خواتی

ن اسمبلی چلاتی تھیں، جسے فوجی حکام نے "انتظامی ع

دم استقرار" کے خدشے سے بند کروا دیا تھا۔

اس دریافت کے بعد، زینب نے فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف

شادی سے انکار کرے گی بلکہ مقامی بلدیاتی انتخاب

میں خود مقابلہ کرے گی۔ قانون کے تحت، خواتین کو و

وٹ دینے کا حق تھا، لیکن "ذمہ دار خاندانی رضامندی

" کی روایتی تشریح کے تحت، بیشتر کو اجازت نہیں مل

تی تھی۔ زینب نے اس قانون کو ہی چیلنج بنایا — وہ

ایک ایسی مہم شروع کی جہاں ہر ووٹ کی درخواست "بلا

شرط فردی اختیار" کے نعرے پر مبنی تھی۔

اس کی مہم نے نہ صرف کالج کی طالبات بلکہ چائے خان

وں، بازاروں، اور مساجد کے صحنوں میں بحث کو ہوا د

ی۔ مردوں کی مجلسیں اسے "بے غیرت" قرار

دینے لگیں،

لیکن خواتین نے خفیہ طور پر اس کے پوسٹرز بانٹے،

جن پر صرف ایک سوال لکھا ہوتا: "کون تمہارا فیصلہ

کرتا ہے؟"۔

انتخابی دن، زینب کے ووٹرز میں سے 82 فیصد نے "غیر

معروف امیدوار" کے طور پر اسے ووٹ دیا، لیکن نتائ

ج کا اعلان نہیں ہوا۔ ضلعی افسر نے "ریکارڈز میں ت

کنیکی خرابی" کا حوالہ دیتے ہوئے تمام بیلٹس ضبط ک

ر لیے۔ اگلے دن، حویلی کے صحن میں، زینب نے ایک دی

وار پر وہ تمام نام لکھے جنہوں نے خفیہ طور پر ووٹ

دیا تھا — ہر نام کے ساتھ ایک شخصی سوال: "تم نے

آج کون سا فیصلہ خود کیا؟"۔

اس دیوار کو لوگوں نے "دیوارِ آزادی" کا

نام دیا۔

اس کے وجود نے نہ صرف انتخابی عمل میں خواتین کی م

وجودگی کو دائمی شہرت دی، بلکہ حکومت کو ایک سرکار

ی رپورٹ جاری کرنے پر مجبور کیا جس میں "خواتین کی

رضامندی کے ثبوت" کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مستقب

ل کے انتخابات میں براہ راست رجسٹریشن کا حکم دیا

گیا۔

زینب نے کبھی دوبارہ مقابلہ نہیں کیا، لیکن ہر سال

5 فروری کو، جس دن اسے رہا کیا گیا تھا، حویلی کے

صحن میں ایک کھلی بحث منعقد ہوتی ہے، جس کا موضوع

ہمیشہ یہی ہوتا ہے: "فرد کا فیصلہ، ریاست کا دائر

ہ"۔ یہ تقریریں ریکارڈ نہیں ہوتیں، لیکن لوگ کہتے

ہیں کہ جب ہوا چلتی ہے، دیوار سے الفاظ ہوا میں سن

ائی دیتے ہیں۔