جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، نمبردار رح
مت علی، جس کے پاس نہ تو لکھنے پڑھنے کا علم تھا ا
ور نہ ہی تولہ میں وزن کرنے کی مشین، صرف ایک پران
ی ترازو اور اللہ کے نام پر لوگوں کا اعتماد تھا۔
ان کا فرض تھا کہ وہ زمین کے جھگڑوں، شادیوں، اور
جائیداد کی تقسیم میں ثالثی کریں۔ مردانہ طرزِ حکم
رانی کا مطلب تھا کہ فیصلہ صرف ایک آواز میں ہوتا،
بغیر کسی اپیل کے، بغیر کاغذوں کے، اور بغیر کسی
وکیل کے — جس نے بھی "نمبردار صاحب" کہا
، منہ بند
کر لیا۔
1948 کا سال تھا، تقسیم ہند کے صرف ایک سال بعد۔ ل
اکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر نئی سرزمین پر آبا
د ہو رہے تھے۔ سرکاری انتظامیہ بکھری ہوئی تھی۔ ری
لوے اسٹیشن خون میں لت پت تھے۔ اور گاؤں کی حدود ک
ا تعین اب انسانوں کی یادداشت پر منحصر تھا، نہ کہ
نقشوں پر۔ جب دو قبیلے، میمن اور لغاری، ایک کھیت
کے اوپر لڑنے لگے، تو نمبردار کو فیصلہ کرنا پڑا
— اور یہ فیصلہ دیہاتی نظام کو ہمیشہ کے لیے بدلا
دے گا۔
جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب میمن قبیلے کی بکریوں نے
لغاری کے کھیت میں گھس کر فصل کھا لی۔ لغاری والو
ں نے بکریوں کو پکڑ لیا اور کہا: "ایک بکری ایک کھ
یت کے برابر ہے"۔ میمن والے ہنس پڑے: "ت
مہاری فصل
بھی ہماری بکریوں کے بالوں جتنی نہیں"۔ دونوں نے ن
مبردار کے سامنے موقف رکھا۔
رحمت علی نے سر جھکایا، پھر ایک بوڑھے کتے کو بلای
ا جو ہر جھگڑے میں گاؤں کی عدالت کے سامنے سوتا تھ
ا۔ اس نے کتے کو کھیت کی سرحد پر لگائی گئی لکڑی ک
ے ستون کے قریب بٹھایا۔ کتے نے سونگھا، پیشاب کیا،
اور سو گیا۔ نمبردار نے اعلان کیا: "جہاں کتا سوی
ا، وہاں تک میمن کا حق ہے"۔ لغاری نے اعتراض کیا،
تو نمبردار نے کہا: "کتا صرف اپنے مالک کے گھر کے
قریب سوتا ہے — اور یہ کتا میمن کے گھر والے کا ہے
"۔
فیصلہ سننے کے بعد، دونوں قبیلوں نے غصے میں ہاتھ
اُٹھائے، مگر پھر ایک بزرگ نے ہنستے ہوئے کہا: "اگ
ر کتا جج ہے، تو پھر ہم سب وکیل ہیں؟" سب ہنس پڑے۔
رسمی طور پر، دونوں قبیلوں نے ایک دوسرے کو دعوت
دی، اور اسی رات گاؤں کے باہر ایک مشترکہ ولیمہ ہو
ا، جس میں بکریوں کا گوشت دونوں طرف برابر تقسیم ہ
وا۔
مقامی طور پر، "کتے کا فیصلہ" اب ایک قا
نون بنا۔ ہ
ر نئے تنازعے میں، لوگ کتے کو بلانے لگے۔ انتظامیہ
نے اسے "غیرقانونی" قرار دیا، مگر گاؤں
والوں نے
کہا: "جب تک نمبردار ہے، ہمیں کسی تحصیلدار کی ضرو
رت نہیں"۔ دیہاتی نظام نے سرکاری نظام کو چیلنج کر
دیا۔
1950 تک، تین اور گاؤں نے اس روایت کو اپنا لیا۔ ک
توں کی نسل میں اضافہ ہوا، اور "سونگھنے والے کتوں
" کی افزائش شروع ہو گئی۔ نمبردار رحمت علی ک
و "کت
وں کا خلیفہ" کہا جانے لگا۔ ایک بار جب ایک بیرونی
افسر نے مداخلت کی، تو تمام گاؤں والے اپنے کتوں
کے ساتھ چوک میں جمع ہو گئے۔ افسر خاموشی سے واپس
چلا گیا۔
مزاح نے نفرت کو نگل لیا۔ قبائلی جنگ بجائے خون بہ
انے کے، ایک دعوت بن گئی۔ اور دیہاتی زندگی، مردان
ہ حکمرانی کے تحت، ایک ایسے نظام کو جنم دیا جہاں
فیصلہ کرنے والا انسان نہیں، بلکہ ایک کتا تھا — ج
س کی سونگھنے والی ناک نے سرحدوں کو دوبارہ تعریف
کر دیا۔


