1947 کی گرمی میں، لاہور کی ویران حویلیوں میں سے

ایک میں، ایک بچہ زمین پر بکھرے خاندانی خطوط کے د

رمیان رو رہا تھا۔ اس کے باپ کو سرحد پار جاتے ہوئ

ے گولی مار دی گئی تھی۔ وہ بچہ، رحمت، مردانہ براد

ری کے اندر پلے بڑھے، جن کی زبان خاموشی تھی، حرکت

یں رسم تھیں، اور وفاداری خون سے لکھی جاتی تھی۔

1952 میں، سرحد پر نئی باڑ لگائی گئی۔ ریت کے ذروں

میں بجلی کا کرنٹ دوڑنا شروع ہوا۔ کوئی بھی انسان

جو سرحد عبور کرتا، اس کی لاش کالی پڑ جاتی، جیسے

زمین نے اسے نگل لیا ہو۔ سرحد اب صرف خطِ تقسیم ن

ہیں رہی — وہ زندہ نظام بن گئی، جس کی دھڑکن والٹ

تھے، اور سانس کی طرح وہ ہر غلط حرکت کو محسوس کرت

ی۔

رحمت نے اسمگلنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے کندھو

ں پر مردانہ برادری کا بوجھ تھا: وہ صرف سامان نہی

ں لے جاتا تھا، بلکہ وہ لوگوں کے خواب، خط، اور مر

دہ بچوں کی تصویریں بھی اٹھاتا تھا۔ ایک ہفتہ قبل،

اس نے ایک بوری میں بچے کی لاش چھپائی تھی — وہ ق

رض تھا جو اس نے ایک ماں سے لیا تھا، کہ وہ اسے سر

حد پار کرا دے۔ اس کا قرض 500 روپے نہیں تھا — یہ

عزت تھی، جو اگر واپس نہ ہوئی تو مردانہ برادری اس

کا نام زمین سے مٹا دے گی۔

سرحد کے قریب، اس نے دیکھا کہ بوری ٹوٹ چکی ہے۔ بچ

ے کی انگلی باہر نکل آئی تھی۔ بجلی کی تاروں نے حر

کت محسوس کی۔ زمین کانپی۔ الارم بج گیا۔ رحمت بھاگ

ا، لیکن اس کے پاؤں سرحد کے آخری فٹ پر رک گئے۔ اس

نے محسوس کیا کہ اب بھاگنا مطلب ہے کہ وہ قرض چُک

ا نہیں سکا۔

اس نے بچے کی لاش کو گلے سے لگا لیا۔ دونوں کے جسم

سرحد کی بجلی میں داخل ہوئے۔ ایک دھماکہ ہوا۔ روش

نی کئی کلومیٹر دور تک دکھائی دی۔ سرحد کا نظام مع

طل ہو گیا۔ تمام تاریں پگھل گئیں۔ سرحد کی نگرانی

کا نظام 48 گھنٹے کے لیے خاموش ہو گیا۔

صبح کو، لوگوں نے دیکھا کہ سرحد کی باڑ کے ساتھ دو

جسم جل کر راکھ بن چکے ہیں۔ لیکن ایک نیا راستہ،

جہاں بجلی نہیں دوڑتی، وجود میں آ گیا تھا — وہ جگ

ہ جہاں رحمت نے قدم رکھا تھا، وہیں سے سسٹم ختم ہو

گیا تھا۔ سرحد کی موت نے ایک نیا دروازہ کھول دیا

۔

مردانہ برادری نے اس کا نام واپس لے لیا۔ اس کی قب

ر پر کوئی سنگِ یاد نہیں رکھا گیا، لیکن ہر ماں جو

اپنے بچے کو سرحد پار کرانا چاہتی، اس راستے سے گ

زرتی، جہاں رحمت کا خون زمین میں سرایت کر چکا تھا

۔

سرحد اب صرف ایک لکیر نہیں تھی — وہ ایک جلتی ہوئی

یاد بن گئی تھی، جو ہر قدم پر چیختی تھی۔