1947 کے فروری میں سبزہ زدہ گاؤں کی ہوا میں سائے

گھلتے تھے۔ ایک چھوٹی سی لڑکی، شمع، جس کے والد نے

اپنی آنکھوں سے وہ سارا سرخ دھواں دیکھا تھا جب ک

راچی کے سمندر کے کنارے لوگوں کے بستے جلا دیے گئے

تھے۔ وہ سال بھر بعد بھی چولہے پر چاول پکا رہی ت

ھی، مگر ہر کوئی جانتا تھا کہ یہ گھر ہر سال ہلکا

ہوتا جا رہا ہے۔

حصہ نمبر دو: دیہات کے انتظامیہ کی طرف سے ایک ڈائ

ریکٹری جاری ہوئی — "مردانہ" سروس کے لی

ے حوالہ نا

مہ۔ لڑکیوں کو 16 سال کی عمر کے بعد دوبارہ نہیں گ

نے جاتے، خاندان کی بے قاعدگی میں خواتین کو "ریاس

تی رضا" کے تحت بھیج دیا جاتا۔ شمع کو 20 دن کے ان

در لاہور کے ایک مردوں کے اسکول میں داخل کر دیا گ

یا، جہاں وہ اپنے چھوٹے سے بھائی کے ساتھ چھوٹی سی

کرسی پر بیٹھی، جس کی آنکھوں میں صرف دو ہی چیزیں

تھیں: چوکیدار کا چہرہ اور ایک نشان دار تختی جو

"آج کا ڈرائیو" لکھی تھی۔

سیاسی سازش کا نیا روٹ بن گیا: مردانہ کے افسران گ

اؤں سے لڑکیوں کو چھوٹی سی چابیاں دے کر باہر لے ج

اتے، مگر ہر ایک کے ساتھ ایک نہیں، بلکہ چھوٹے چھو

ٹے چھوٹے چھوٹے ڈیٹا کے ٹکڑے ساتھ لے جاتے — جو کہ

سیاسی اطلاعات کے بدلے استعمال ہوتے۔ شمع کو ڈرائ

یو کے دوران ایک جگہ سے ایک چھوٹی سی چھوٹی سی ڈرا

ئیونگ کار میں ڈال دیا گیا، جہاں اس کے ہاتھ میں ا

یک پرانا ڈرائیو ہدف تھا — "کراچی، تحفظ ہیلیکاپٹر

، فروری 18".

سال بھر کے بعد، وہ ایک سرکاری ڈھانچے کے ذریعے وا

پس گاؤں پہنچی — مگر اب گاؤں کا دروازہ بند تھا۔ چ

ولہا بج رہا تھا، مگر آتش فشاں کے ڈرائیو ہدف کے ڈ

یٹا نے پوری کشادگی کو گھیر لیا تھا۔ اس نے اپنے چ

ھوٹے بھائی کو پکڑ لیا، جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی

سی چابی تھی — جو کہ اصل میں ایک چھوٹا سا ڈیوائس

تھا، جسے "مردانہ" کے نظام میں ایک چھوٹ

ی سی تھریل

ر کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔

آنکھوں کے سامنے، چھوٹی سی ڈرائیونگ کار نے ایک چھ

وٹی سی چیز چھوڑی — ایک چھوٹی سی چادر جس پر "نہیں

، ہم نہیں چھوڑیں گے" لکھا تھا۔ شمع نے وہ چادر بی

چ کر گاؤں کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور پھر ایک چھوٹ

ی سی کتاب کو دوسرے گاؤں کی طرف بھیج دیا — جس میں

صرف ایک سرخ خط تھا، اور اس کے نیچے ایک نام: "حم

ید، 1947"۔

پراسرار کا منظر بند ہوا — گاؤں کے بیچ میں کوئی چ

ھوٹی سی چادر تھی، جو آسمان سے گری ہوئی تھی۔ اور

وہ چادر کے نیچے، ایک چھوٹا سا چھوٹا سا چھوٹا سا

چھوٹا سا چھوٹا سا ڈیوائس تھا — جس کی کھڑکی پر "ر

یاستی رضا" کا لکھا ہوا تھا، مگر اب وہ چمک رہا تھ

ا، اور اس میں ایک ہری رنگ کا ٹیکسٹ تھا: "اب ہم ج

انتے ہیں"۔