1948 کے موسمِ برسات میں، لاہور کے باہر ایک ویران
حویلی کے آنگن میں، چودہ سالہ غریب مزدور مختار ن
ے ایک مردہ آدمی کی لاش کو دفنایا، جس کے منہ پر س
فید کپڑا تھا اور ہاتھ میں ایک مہردار خط۔ حکومتِ
پنجاب نے تقسیم کے بعد زمین کے ریکارڈ توڑ دیے تھے
، اور جائیداد کا دعویٰ صرف "وصیت" یا &
quot;خون کے نشا
ن" سے مانا جاتا تھا۔ مختار نے وہ خط چھپا لیا۔
خط میں لکھا تھا: "میری جائیداد اور نام دونوں اس
شخص کو منتقل ہوں گے جو میری لاش کو غیرت سے دفنائ
ے گا۔" حکومت کے نئے قانون نے "وصیت کی
مہر" کو زم
ین کے ریکارڈ سے بالاتر قرار دے دیا تھا — اب زمین
کا مالک وہ تھا جس کے پاس وصیت تھی، نہ کہ جس کے
پاس کاغذ تھے۔ مختار، جو ایک برطانوی دور کے مزدور
کا بیٹا تھا، اب ایک سردار بن گیا۔
حُویلی کے قدیم خاندان نے انکار کیا۔ ان کا کہنا ت
ھا کہ غریب مزدور کا خون "غیرت والا" نہ
یں، اس لیے
وصیت "باطل" ہے۔ انہوں نے مختار کو بے گ
ھر قرار د
ینے کے لیے ایک فتویٰ جاری کروایا، جس میں کہا گیا
کہ "جس کے باپ نے ہاتھ سے کام کیا، وہ سردار نہیں
بن سکتا۔" مختار نے وصیت کی مہر کو اپنے دل کے قر
یب رکھا۔
1952 تک، مختار نے حویلی کو بحال کیا، لیکن کبھی ا
س کے کمرے میں داخل نہیں ہوا جہاں وہ مردہ سردار د
فن تھا۔ وہ رات کو دروازے کے سامنے پانی کے دیے جل
اتا، اور سر پر راکھ رکھتا۔ لوگ کہتے تھے وہ پاگل
ہے، لیکن کوئی قانون اسے روک نہیں سکتا تھا — وصیت
کی مہر نے نظام بدل دیا تھا۔
ایک دن، مختار نے ایک لڑکی کو دیکھا جو کنویں کے پ
اس پانی بھر رہی تھی۔ وہ خاندان کی بیٹی تھی، جس ک
ا نام صفیہ تھا۔ اس کے باپ نے اس کی شادی مختار سے
کرنے سے انکار کر دیا، کہا: "ہماری غیرت اس کے جو
تے کی مٹی میں نہیں ماری جا سکتی۔" مختار نے کچھ ن
ہیں کہا۔ اس نے اگلے دن اپنی زمین کا نصف حصہ عوام
کے لیے وقف کر دیا، اور ایک مدرسہ بنوایا، جس کے
دروازے پر لکھا: "یہاں وہ داخل ہو سکتا ہے جس کے د
ل میں غیرت ہو، چاہے اس کے کپڑے میں مٹی ہو۔"
1960 میں، صفیہ کے گھر والوں نے اس کی شادی کسی اف
سر سے طے کر دی۔ شادی سے ایک رات پہلے، مختار نے و
صیت کی مہر کو ایک کفن میں لپیٹ کر اپنے سینے سے ب
اندھ لیا۔ وہ حویلی کے تہ خانے میں اتر گیا، جہاں
وہ مردہ سردار دفن تھا۔ وہاں اس نے ایک کھودا ہوا
گڑھا دیکھا — اس کے نام کے ساتھ۔
مختار نے کھودا ہوا گڑھا دیکھا اور سمجھ گیا: وصیت
کبھی اس کی نہیں تھی۔ یہ ایک آزمائش تھی۔ اصل میں
سردار نے چاہا تھا کہ غریب مزدور کی "غیرت&qu
ot; کا قت
ل کر کے اپنے خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لے۔ لیکن
مختار نے گڑھے کے سامنے کفن اتارا، مہر کو زمین می
ں دبا دیا، اور کہا: "تمہاری غیرت مرتی ہے، میری ج
لتی ہے۔"
صبح کو، لوگوں نے مختار کو درخت کے نیچے بیٹھا پای
ا، بے ہوش، مہر غائب۔ مدرسہ کے دروازے کھلے تھے۔ ص
فیہ نے شادی سے انکار کر دیا۔ ایک سال بعد، مختار
نے مدرسہ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ کبھی شادی نہ
یں کی، نہ ہی کبھی حویلی میں رہا۔ لیکن ہر برسات،
وہ اس گڑھے کے سامنے ایک دیا جلاتا، اور چلتا بنتا
۔
وصیت کا نظام آج بھی قائم ہے، لیکن مختار کی وجہ س
ے اب "غیرت" کی تعریف تبدیل ہو چکی ہے —
وہ جسم نہ
یں، عمل ہے۔


