1947 کے بعد کے سال، تقسیم کے زخم ابھی تازہ تھے۔
لوگ لاہور کے باہر قبرستانوں کی طرح بکھرے ہوئے گا
ؤں میں آباد ہو رہے تھے۔ زمین کا ہر انچ خون سے لک
ھا گیا تھا۔ ایک حویلی، جس کے دو دروازے تھے اور ت
ین خاندان، وقفے کے بغیر جھگڑ رہے تھے۔ فوج نے عار
ضی حد بندی کر دی تھی، مگر عدالتی نظام ابھی تک بر
طانوی قوانین پر چل رہا تھا۔
جج محمد اکرم، ایک ایماندار آدمی، لاہور ہائی کورٹ
کے افسر، کو معاملہ سونپا گیا۔ ان کے خاندان کی ش
ہرت تھی: "اکرم کا فیصلہ، اللہ کی طرح نا قابلِ تب
دیل"۔ مگر یہ معاملہ مختلف تھا۔ تینوں خاندانوں می
ں سے دو کے رشتے حکومتی افسران سے تھے۔ تیسرا، مہا
جرین کا خاندان، زمین پر قدیمی دعویٰ رکھتا تھا۔
مردانہ نظام حرکت میں آیا۔ صبح سویرے، اکرم کے گھر
کے باہر تین موٹر سائیکلیں آ کر رکیں۔ کوئی خط نہ
یں چھوڑا گیا، مگر ان کے بیٹے کا اسکول کا بستہ در
وازے پر پھینکا گیا تھا — جس کے اندر ایک سانپ کی
لاش تھی۔ اسی دن، عدالتی عملے نے ریکارڈ غائب کر د
یا۔ دوبارہ نہیں ملا۔
اکرم نے ثبوت کے فقدان کے باوجود فیصلہ سنایا۔ انہ
وں نے مہاجر خاندان کو زمین دے دی، کیونکہ ان کے پ
اس تقسیم سے قبل کے وسائل تھے — ایک زمیندار کا ہا
تھ سے لکھا ہوا خط، ایک پرانی تصویر، اور گاؤں وال
وں کے دستخط۔ فیصلہ سننے کے بعد، گاؤں کے باہر کے
کنویں میں دو جسم ملے — دونوں افسران کے، جنہوں نے
دباؤ ڈالا تھا۔
فیصلہ عدالتی تاریخ میں داخل ہوا، مگر نظام نے جوا
ب دیا۔ اکرم کو لاہور سے گلگت منتقل کر دیا گیا۔ ا
س منتقلی کا حکم وزارتِ قانون کے ایک نوٹ پر تھا،
جس پر کوئی دستخط نہیں تھا۔ وہ گلگت میں تنہا مر گ
ئے، 1953 میں، ایک سردی کی رات، ایک کوٹھری میں، ج
ہاں ان کے پاس صرف ایک کمبل اور فیصلے کی کاپی تھی
۔
زمین کا تنازع ختم ہوا، مگر کرپٹ نظام زندہ رہا۔ ا
کرم کا فیصلہ بعد میں "غیر معمولی حوالہ"
; کہلایا،
مگر کسی نے اس پر عمل نہیں کیا۔ 1960 تک، تمام تین
خاندان لاہور چھوڑ چکے تھے۔ ایک کراچی، دوسرے دبئ
ی، تیسرا لاہور کے ایک مضافاتی چوکیدار بن گیا۔
حویلی کو حکومت نے قومی متبرک مقام قرار دے دیا، م
گر کوئی نماز نہیں پڑھی گئی۔ وہاں پر صرف ایک تختی
لگی ہے: "یہاں انصاف کا ایک دن تھا"۔ اس
رات، جب
تختی لگائی گئی، بارش ہوئی۔ صبح تختی پر صرف "یہاں
" لکھا تھا۔ باقی مٹ چکا تھا۔
دل دہلا دینے والا وہ لمحہ تھا جب اکرم نے اپنے بس
تر پر، آخری سانس لیتے ہوئے، اپنی گھڑی کی سوئی کو
12 بجے پر رکھ دیا — بالکل اسی وقت جب انہوں نے ف
یصلہ سنایا تھا۔ کوئی شہری اس بات کا گواہ نہیں، م
گر گلگت کے ایک پرانے ہسپتال کے لاگ میں درج ہے: "
مریض نمبر 47، وقتِ وفات — 10:00 PM، گھڑی 12:00 ب
جے پر مقرر"۔


