1947 کی تقسیم ہند کے بعد، لاہور کے ایک خاندان کی

حویلی میں ایک بے نام دستاویز مل جاتی ہے۔ یہ دست

اویز ایک زنانہ کی تحریر ہے، جس میں اس کی آخری وص

یت لکھی گئی ہے۔ اس دستاویز کو حوالہ دے کر ایک صح

افی، علی، اپنی پرائیویٹ سیکرٹری، فاطمہ، کو اس مس

ئلے پر روشنی ڈالنے کے لیے مجبور ہوتا ہے۔

فاطمہ ایک کرپٹ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہے۔

وہ علی کو بتاتی ہے کہ اس زنانہ کی وصیت ایک غائب

ہونے والے آدمی کی معلومات سے متعلق ہے۔ وہ شخص 1

947 کے وقت لاہور کے ایک بڑے سیاسی لیڈر تھا، جس ک

ی موت کے بعد اس کے خاندان کی تمام ملکیت غائب ہو

گئی۔

علی اور فاطمہ دونوں اس معاملے کو ایک تاریخی داست

ان کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک

قانونی رول کے ذریعے اس دستاویز کو ثبوت کے طور پر

استعمال کیا۔ لیکن اس عمل میں انہیں ایک نئی حقیق

ت کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ دستاویز صرف ایک شخص کی آخ

ری وصیت نہیں تھی، بلکہ ایک سیاسی کرپشن کے باقاعد

ہ ثبوت بھی تھا۔

انہوں نے اس دستاویز کو ایک مذہبی ادارے تک پہنچای

ا۔ اس ادارے نے اس کی مدد سے ایک بڑے سیاسی فیصلے

کو منسوخ کر دیا۔ اس موقع پر، علی کی زندگی میں ای

ک نئی منزل بن جاتی ہے۔ وہ اپنی ایک تحقیقی سرگرمی

کی بنیاد پر ایک فوجی کہانی کو تخلیق کرنے لگتا ہ

ے۔

فاطمہ کی آخری وصیت اس کے ایک اسرار کا حل تھا۔ اس

کے انتقال کے بعد، اس کے خاندان کے ہر فرد کو ایک

جبری شادی کی دھمکی دی گئی۔ اس دھمکی کے خلاف علی

اور فاطمہ نے ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ اس

تحریک کے دوران، وہ دونوں ایک پی ٹی وی یادیں کے د

ور کی فلم کے طرز پر ایک نئی فکشن کہانی تیار کرنے

لگے۔

آخر کار، اس دستاویز کی مدد سے ایک دل دہلا دینے و

الی تاریخی داستان کے ساتھ، ایک کرپٹ نظام کا انجا

م نکل آیا۔ علی اور فاطمہ کی جدوجہد نے ایک دیہاتی

زندگی کے لوگوں کو اپنے حقوق کی بحالی کے لیے متح

رک کیا۔ اس داستان کے ساتھ، ایک نیا سیاسی تھرلر پ

یدا ہوا، جو پورے پاکستان میں ایک اہم موضوع بن گی

ا۔