1947 کے تقسیم ہند کے بعد، لاہور کے دیہات میں ایک
قدیم حویلی کا نام چلتا رہا۔ اس حویلی کے آخری با
قی رہنے والی، ممتاز بibi، 85 سال کی بوڑھی عورت ہ
ے۔ اس کے والد نے ایک سیاسی لیڈر کے ہاتھوں قتل ہو
نے کے بعد، اس حویلی کے زمینوں پر قبضہ کرنے کی کو
شش کی تھی۔
تقسیم کے وقت، اس حویلی کے ارد گرد بڑے بڑے رقبے پ
ر قبضہ ہوا۔ ممتاز bibi کو اپنی ماں کے واقعہ کا ع
لم تھا، جو اس وقت اس کے والد کے خلاف ایک سیاسی س
ازش کا حصہ تھا۔ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں
میں ایک نئی دولت کی تلاш شروع کر دی۔
1960 کی دہائی میں، اس کے بیٹے نے ایک سیاسی جماعت
کے سربراہ بن کر، اس حویلی کے اطراف کے زمینوں کو
فروخت کرنے کی کوشش کی۔ ممتاز bibi نے اسے روکنے
کے لیے اپنی ماں کے واقعہ کا ثبوت ایک دستاویز کی
صورت میں دریافت کیا۔
دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم
کے ایک ذیلی آفیسر نے اس حویلی کے زمینوں کو اپنے
نام کر لیا تھا۔ اس دستاویز کے سبب، ممتاز bibi نے
اپنے بیٹے کے خلاف ایک ایسا ثبوت جمع کیا جس کے س
بب اس کے بیٹے کی سیاسی کریئر کا خاتمہ ہو گیا۔
سیاسی سازش کی تحقیقات میں ایک بڑا راز سامنے آیا:
اس حویلی کے زمینوں کا حق اصل میں اس کے والد کے
خاندان کے پاس تھا۔ ممتاز bibi نے اس راز کو سامنے
لائے بغیر، اپنی حویلی کی حفاظت کی۔
آخر کار، اس کے بیٹے کی سیاسی سازش کے نتیجے میں ا
س کے خاندان کی حیثیت تبدیل ہو گئی۔ ممتاز bibi نے
اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنی حویلی کے تمام
زمینوں کو ایک ادارے کے نام کر دیا۔ اس کی موت کے
بعد، اس حویلی کی تاریخی وراثت کا ایک نیا باب شرو
ع ہوا۔


