1948 کے موسمِ برسات میں، سرائیکی حدود کے ساتھ ای
ک سرحدی گاؤں میں، سکھ فامیلیوں کے خالی چھوڑے ہوئ
ے مکانوں میں نئے مہاجرین رہنے آئے۔ حکومت کی جانب
سے سرحدی کنٹرول سخت ہوا تو اسمگلنگ کا نظام زنان
ہ کمیونٹی کے ہاتھ میں چلا گیا — بیوہ عورتیں، جنہ
یں معاشرہ "بے غیرت" سمجھتا، رات کو کنو
ؤں کے راست
ے، چولہوں کے دھوئیں کے سائے میں، اشیاء منتقل کرن
ے لگیں۔ ان کا یہ نیٹ ورک سرکاری نظام کو بے اثر ک
ر دیتا، کیونکہ کوئی عورت کو شک نہیں کرتا تھا۔
ایک روز، لاہور سے آنے والے سمگلر نثار علی نے، جو
اصل میں دہلی کا رہنے والا تھا، ایک چھوٹے بچے کو
اپنے کندھے پر بٹھا کر سرحد پار کی۔ بچہ اُس کا ن
اجائز تھا، ماں ایک مقامی زنانہ عورت تھی، جسے راس
تے میں گولی لگ گئی۔ نثار نے بچے کو بچا لیا، لیکن
اس کے دل میں احساسِ جرم نہیں، بلکہ سردی بھر دی۔
وہ بچے کو اپنے ساتھ لاہور لے گیا، جہاں اسے اپنی
بیوی نے بیٹے کے طور پر پال لیا۔
بچہ، عامر، بڑا ہوا تو نثار کے کاروبار میں شامل ہ
و گیا۔ اسے کبھی نہیں بتایا گیا کہ وہ ناجائز ہے،
لیکن ایک دن، نثار کی بیوی کی موت کے بعد اُسے ایک
پرانی دفتری فائل ملی — اس کی ماں کا نام، اس کی
تصویر، اور ایک خط جس میں لکھا تھا: "تمہارا باپ ت
مہیں لے گیا، میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتی، اللہ تمہا
ری حفاظت کرے"۔
عامر نے اپنی ماں کے گاؤں کا سفر کیا۔ وہاں، زنانہ
کمیونٹی کی بزرگ عورت، بی بی فاطمہ، نے اسے سچ بت
ا دیا۔ اس کی ماں کو نثار نے نہیں، بلکہ سرکاری فو
جی نے گولی ماری تھی، کیونکہ وہ ایک سرکاری ریکارڈ
اسمگل کر رہی تھی — ایک ایسا ریکارڈ جس میں تقسیم
کے دوران لاپتہ افراد کے نام تھے، جن میں سے کئی
پاک فوج کے افسروں کے خاندان شامل تھے۔ نثار صرف ا
یک ڈکی تھا، لیکن اس نے موقع غنیمت جان کر بچے کو
اپنا بنا لیا۔
عامر نے انتقام کا فیصلہ کیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا ک
ہ نثار مرے — وہ چاہتا تھا کہ وہ ذلیل ہو۔ اس نے ز
نانہ کمیونٹی کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا: ایک
صوفی میلے کے دوران، جہاں تمام علاقہ جمع ہوتا، ا
س نے ایک "مزاحیہ" تماشہ رچایا — ایک ڈر
امہ جس میں
ایک باپ اپنے بیٹے کو چوری کرتا ہے، اور آخر میں
عوام اسے پکڑ کر رسوا کرتے ہیں۔
میلے کے دن، عامر نے نثار کو بلایا، کہا کہ وہ ایک
بڑا اسمگلنگ ڈیل کرے گا۔ نثار آیا، اور جیسے ہی و
ہ چولہے کے پاس پہنچا، جہاں اشیاء منتقل ہوتی تھیں
، عامر نے دھواں اُڑایا — لیکن اس دفعہ دھواں سرخ
رنگ کا تھا، اور اس کے ساتھ ہزاروں چھوٹے کاغذ گرے
، جن پر نثار کے جرائم، اس کی جھوٹی شناخت، اور ما
ں کے قتل کا سچ لکھا تھا۔
عوام نے نثار کو گھیر لیا۔ وہ بھاگا، لیکن زنانہ ع
ورتوں نے راستہ بند کر دیا۔ اس کے اپنے سابق ساتھی
بھی وہاں تھے۔ کسی نے تالی بجائی، کسی نے قہقہہ ل
گایا — مزاح بن گیا تھا، لیکن اس میں زہر تھا۔ نثا
ر گر گیا، اور لوگوں نے اسے نہیں اُٹھایا۔
صبح ہوئی تو چولہے کا دھواں اب بھی سیدھا آسمان کی
طرف جا رہا تھا۔ زنانہ کمیونٹی نے اپنا نیٹ ورک ب
حال کر لیا۔ عامر واپس نہیں آیا — اس کی جگہ ایک ن
ئی لڑکی تھی، جو اپنے بازو پر نیلے نشان والی چادر
اوڑھے، چولہے کے پاس کھڑی تھی۔
دن گزرتے، میلے ہوتے رہے، اور ہر بار کوئی نیا "مز
اح" عوام کو سچ سناتا۔ اسمگلنگ بند نہ ہوئی، لیکن
اب وہ زنانہ کی مرضی سے چلتی۔ انتقام مکمل ہوا، او
ر نظام بدل گیا۔


