حیدر آباد دکن سے ایک قافلہ نکلا، بھارت کی طرف بھ
اگتے مسلمانوں کے خون میں لت پت سڑکوں کے ساتھ۔ اس
قافلے میں ایک بارہ سالہ لڑکی، فاطمہ، اپنے مردہ
والدین کے جسموں کے درمیان زندہ رہ گئی، صرف ایک ر
سید دار چادر اور ماں کی آخری ہدایت — "لاہور جانا
" — کے ساتھ۔ تقسیم ہند کا فرشتۂ ہلاکت ہر گاؤں، ہ
ر ریلوے اسٹیشن، ہر قبرستان پر قبضہ کر چکا تھا، ا
ور دیہی پنجاب کا نظامِ زمینداری ٹوٹ کر اندر ہی ا
ندر جلنے لگا تھا۔
لاہور پہنچ کر، فاطمہ کو ایک ویران حویلی میں پناہ
ملی، جو سابقہ زمیندار کے خاندان نے چھوڑ دی تھی۔
وہاں عورتوں کا ایک نیٹ ورک خاموشی سے چلتا تھا —
زنانہ، ایک غیر متحرک سماجی نظام جس میں مردوں کے
فیصلوں کے باوجود عورتیں بازؤں میں زہر اتارتی تھ
یں۔ حویلی کی مالکن، بی بی جان، ایک بیوہ زمیندارن
تھیں، جنہوں نے فاطمہ کو اپنی بیٹی کی لاش کی جگہ
قبول کر لیا۔
حویلی کے تہ خانے میں ایک فوجی کیمرہ چھپا تھا، جس
کے ذریعے 1947 کے بعد کے ایمرجنسی دور میں پاک فو
ج نے غیر مصدقہ مہاجرین کی نشاندہی کی تھی۔ کیمرہ
اب بند تھا، لیکن اس کے فیلم ریلس ابھی تک زندہ تھ
ے۔ فاطمہ نے ایک دن ایک ڈبے میں ایک یونیفارم والا
بچہ دیکھا — اسی کی عمر کا، لیکن فوجی بیلٹ کے سا
تھ، جو ایک دیوار کے سوراخ میں چھپا ہوا تھا۔ وہ ب
چہ اس کا جڑواں تھا، لیکن اس کی شناخت: ایک "فوجی
جوان"، جسے تقسیم کے وقت فوج نے چھوٹی عمر میں ہی
بھرتی کر لیا تھا۔
اسی شب، فاطمہ نے اپنی چادر اتار کر اس کی یونیفار
م میں لپیٹ لیا اور تہ خانے میں داخل ہوئی۔ کیمرہ
میں فلم ڈالی، بٹن دبا دیا۔ روشنی نے اس کی تصویر
ایک فوجی کے نام سے رجسٹر کر دی — "جنرل اصغر خان
کے مشن 87B" کے تحت، اب بھی فعال سسٹم میں۔ اب وہ
رسمی طور پر مرد تھی، ایک خفیہ شناخت کے ساتھ، جس
کے ذریعے وہ حویلی کے باہر جا سکتی تھی، فوجی گشت
میں شامل ہو سکتی تھی، لیکن اندر سے ہر لمحہ اداس
رہتی — ایک ایسی دنیا میں جہاں اس کی اصلی شناخت گ
م ہو چکی تھی۔
ایک سال بعد، حویلی کے صحن میں ایک نیا دروازہ لگا
— "خواتین کے لیے تربیتی مرکز"۔ بی بی ج
ان نے اعل
ان کیا کہ فاطمہ نے فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس زم
ین کا تحفہ دیا ہے، لیکن فاطمہ وہاں نہیں تھی۔ وہ
ایک ٹرین پر تھی، کراچی کی طرف، ایک نئی فلم کے سا
تھ، جس پر اب بھی اس کا نام "جوان اصغر" تھا۔
زمینداری ختم ہو چکی تھی، لیکن زنانہ نظام اب بھی
زندہ تھا — اب فوجی دستاویزات کے ذریعے۔ فاطمہ کی
شناخت کا فیصلہ اب بھی ایک ریاستی ریکارڈ پر تھا،
اور اس کی اداسی اب ایک قومی حالت تھی۔


