1947 کے فیصلہ آنے کے دو ماہ بعد، لاہور کے ایک در

جہ اول گھر میں زنانہ کے چھوٹے بھائی نے ایک خط پڑ

ھا۔ اس میں کراچی کی ایک ہوئیلی میں ان کی ماں کی

رہائش کا ذکر تھا۔ زنانہ کو اپنی والدہ کے ہمراہ س

رحد پار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس وقت اس کے

باپ ایک ایسے دوست کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے جو گ

وجرانوالہ کے ایک بڑے مالک تھے۔

زنانہ نے اپنے دوست سے ایک غیر معمولی سمجھوتہ کیا

۔ اس نے اپنے اخبار کے ایک واقعہ کو اپنے ہاتھ میں

لے لیا، جس میں ایک فوجی کمانڈر کی بے گناہ حالت

کا ذکر تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس واقعہ کو شائع کرن

ے سے اس کی خاندانی عزت کو ہلا کر رکھ دیا جائے گا

۔

1948 کے آغاز میں، زنانہ نے اپنی والدہ کے ساتھ سر

حد پار ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باپ نے اسے ایک ن

وٹ دیا: "اگر تم اس کام کو کرو گے تو تمہارا خاندا

ن کبھی نہیں بحال ہو سکے گا۔" زنانہ نے اس نوٹ کو

اپنی جیب میں رکھ لیا۔

سرحد پار ہونے کے لیے، زنانہ نے ایک فوجی کمانڈر ک

ی مدد لی۔ اس کمانڈر کا نام چودھری امجد تھا۔ اس ن

ے زنانہ کو ایک گاڑی میں سوار کر کے سرحد پار کردی

ا۔ لیکن گاڑی کے اندر ایک بڑا دھماکہ ہوا۔ زنانہ ک

ی والدہ اور اس کے بھائی ہلاک ہو گئے۔

زنانہ کو اس دھماکے میں زخمی ہو کر بچا رہا تھا۔ ا

س کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ لیکن اس کے دل میں ایک

ہی خیال تھا: خاندانی عزت کو بچانا۔ اس نے اپنے ا

خبار کے ایک مضمون میں اس دھماکے کا ذکر کیا، جس م

یں فوجی کمانڈر کی رواداری کا مذکور تھا۔ اس مضمون

کے نتیجے میں، چودھری امجد کو معطل کر دیا گیا۔

زنانہ نے اپنی آنکھوں کی بجائے اپنے دل کو استعمال

کر کے ایک نیا خاندان بنایا۔ اس کی نئی زندگی میں

، اس نے اپنی خاندانی عزت کو دوبارہ قائم کیا۔ لیک

ن اس کے دل میں اداسی ہمیشہ رہی۔ زنانہ کی داستان

ایک اداس دنیا کی ایک چھوٹی سی کہانی بن گئی۔