قریہ بابوکی میں وقت کا پیمانہ نمازِ فجر کی اذان

تھی، نہ گھڑی۔ زمین کی تقسیم، پانی کی بانڈی، لکڑی

کے بچولیے — سب کچھ نمبردار دین محمد کے فیصلے سے

چلتا تھا۔ یہ نظام قدیم دور کی ایجاد تھا، جب برط

انوی حکومت نے زمین کے ٹکڑوں پر لوگوں کو ذمہ دار

ٹھہرایا تھا۔ اب وہ طاقت، قانون، اور مذہب کا سنگم

تھا۔

دین محمد کی آنکھیں اس دن بدل گئیں جب وہ چنار کے

درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس نے دیکھا کہ سیدہ،

جو درویش فقیر کی بیٹی تھی، ننگے پاؤں مٹی میں گھو

م رہی تھی، اس کے بال ہوا میں تھے، اور اس کی انگل

ی زمین پر الفاظ لکھ رہی تھی: "عشق وہ نہیں جو دیک

ھا جائے، بلکہ وہ ہے جو محسوس ہو۔" اس نے کچھ نہیں

کہا، لیکن اس رات اس کے خواب میں چنار بول اٹھا۔

نظامِ قدیم کے تحت، نمبردار کو ہر قسم کے معاملات

میں فیصلہ کرنے کا حق تھا۔ ایک رواج تھا: کوئی بھی

نمبردار اگر غیر شادی شدہ ہو تو اس کی حیثیت کمزو

ر ہوتی تھی۔ دین محمد کی شادی عمر کے پچاس سال بعد

بھی نہ ہو سکی تھی — لوگ کہتے تھے وہ "مردانہ

" نہ

یں، کیونکہ اس کے پاس بیوی نہیں۔

جب سیدہ کے والد کا کاروبار — روٹی کی چکی جو گاؤں

کی واحد مشین تھی — حکومتی افسر نے بند کروا دیا،

تو دین محمد نے مداخلت کی۔ اس نے کہا کہ چکی قومی

ورثہ ہے۔ افسر نے قہقہہ لگایا، لیکن دین محمد نے

چنار کے نیچے مجلس لگا دی۔ وہاں اس نے ہر ایک کو ا

یک روٹی دی، جو سیدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی تھی، اور

کہا: "جو چکی کھولے گا، وہ میرا بھائی ہے۔"

لوگ ہنسے۔ یہ مزاح تھا، لیکن عمل بھی۔ اگلے دن، دس

گھروں نے اپنی اپنی چکیاں لگا لیں۔ حکومتی افسر ن

ے دوبارہ بندش کا حکم دیا، لیکن دین محمد نے اعلان

کیا: "میں نمبردار ہوں، اور میں ہر چکی کو زمین ک

ا حصہ قرار دیتا ہوں۔" اس نے نئی رسم بنائی: ہر چک

ی کو درخت کی طرح نمبر دیا، اور رجسٹر میں لکھا: "

یہ چنار کی اولاد ہے۔"

حکومت نے معاملہ دیوانی عدالت میں بھیجا۔ دین محمد

عدالت گیا، لیکن وہاں اس نے اپنے سر پر چنار کی ش

اخ رکھ لی۔ قاضی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا

: "میرا وکیل۔" عدالت ہنس پڑی، لیکن قان

ون نے ٹھہر

نا تھا۔ آخرکار، عدالت نے فیصلہ سنا دیا: "نمبردار

کی رسم اب قانون ہے، جب تک کوئی اور نظام منظور ن

ہ ہو۔"

دین محمد واپس گاؤں آیا۔ اس کے سر پر اب بھی شاخ ت

ھی۔ لیکن اس بار، تمام عورتیں، بچے، بوڑھے — سب نے

اپنے سر پر چھوٹی چھوٹی شاخیں رکھ لیں۔ گاؤں کا ن

قشہ بدل گیا: ہر چکی کے ساتھ ایک چنار کا بیج لگا

دیا گیا۔ نمبردار کی طاقت اب صرف زمین تک نہیں، بل

کہ ہر روٹی تک پہنچ گئی۔

مردانہ کا تصور بدل گیا: اب مرد وہ نہیں جس کے پاس

بیوی ہو، بلکہ وہ جو نظام کو مسخ کر سکے۔ دین محم

د نے نہ شادی کی، نہ تلوار اٹھائی، لیکن اس کی مزا

حیہ بغاوت نے قدیم نظام کو ایک نئی شکل دے دی۔

آخری دن، سیدہ نے اسے دیکھا کہ وہ چنار کے نیچے بی

ٹھا ہے، اور مسکرا رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک نئی

روٹی تھی، اور اس پر کچھ لکھا تھا: "عشق وہ ہے جو

نظام کو ہنسا دے۔"