دریا کے کنارے چمڑے کی چھوٹی حویلی، جس کے دروازے
1947 کے بعد بند ہو گئے تھے۔ اب وہاں صرف ایک بوڑھ
ی عورت رہتی تھی — حسنہ، جس کے ہاتھوں میں کتابوں
کی جگہ چھوٹی چومھوں کی لکڑی تھی۔ انہوں نے کبھی ہ
جرت نہیں کی، کیونکہ 1952 میں ہی انہوں نے اپنے بھ
ائی کو بیت الخلا میں گولی مار دی تھی — "غیرت مند
قتل" کے عنوان سے۔
قدیم دور کا نظام، جس میں ہر سال سبزہ کے سیزن میں
چھوٹے بھائی کو چھوڑ کر ہیرو کی طرح دوبارہ مقرر
کیا جاتا تھا، اب بھی چلتا تھا۔ ہر سال 30 جولائی
کو چھوٹے بھائی کا پودا کاٹا جاتا تھا — اور اس کے
ساتھ وہی جلوس شروع ہوتا تھا جس میں مردانہ روح ک
و سراہا جاتا تھا۔
لیکن 1963 میں، جب چھوٹا بھائی ایک نوجوان لڑکے کو
پانی کے ساتھ دو گولیاں دے کر بھاگ گیا، حسنہ نے
سمجھ لیا: اس نظام کا دوسرا حصہ ختم ہو رہا ہے۔ دو
سری گولی کا راستہ پھٹ گیا تھا — کیونکہ مردانہ رو
ح کو اب ہر سال نہیں، بلکہ ہر دو سال میں ہی چھوٹے
بھائی کو سامنے لانا تھا۔ اس کا عمل کوئی رواداری
نہیں تھا — بلکہ ایک نشاندہی تھی: اب سب کچھ چھوٹ
ے بھائی کی طاقت میں تھا۔
دوسرے سال، حسنہ نے خود چھوٹے بھائی کے دستخط کی ک
تاب میں ایک جملہ لکھا: "اب تم ہو گا، میرا چھوٹا
بھائی، نہ کہ مردانہ روح کا ہمسفر۔" گولیاں اب بھی
چلیں گی — لیکن اب وہ چھوٹے بھائی کی طرف سے چلیں
گی۔
تین سال بعد، حویلی کے چمڑے کے دروازے کھل گئے۔ ای
ک چھوٹا لڑکا، ہری چھوٹا بھائی، نے چھوٹے بھائی کے
پودے کو کاٹا — اور اس کے بعد، سب کچھ پرانے طریق
ے سے ہوا۔ لیکن اس بار، کسی نے نہیں سنا کہ "مردان
ہ روح" بول رہی ہے۔
حسنہ کا آخری روز، ہری نے اسے ایک کاغذ دیا جس پر
لکھا تھا: "تمہاری غیرت نے مجھے زندہ رکھا، لیکن م
زاحیہ تاریخ نے مجھے آزاد کر دیا۔" وہ مسکرا دی —
اور حویلی کے باہر، ایک پرانا ٹی وی چل رہا تھا: پ
ی ٹی وی کی فلم "دنیا کی چھوٹی سی بات"۔
اب کوئی چھوٹا بھائی نہیں، بلکہ ایک دوبارہ پیدا ہ
وا ہو گا۔


