شام کی چاند کی روشنی میں، حویلی کے دروازے پر ایک
لڑکی کھڑی رہتی ہے۔ اس کا نام سعادت ہے۔ اس کا با
پ، عرفان خان، ایک ممتاز زمیندار ہے۔ سعادت کو ایک
بلیک میلنگ کے ذریعے مردانہ قبضے میں لے لیا گیا
ہے۔ اس کی شادی ایک بے وفا شخص سے ہو چکی ہے۔
فوجی کہانیوں کی طرح، اس وقت کے قوانین اور روایات
ایک دوسرے کو ٹکراتے ہیں۔ تقسیم ہند کے خون کے آث
ار ابھی بھی ملک کے ہر گھر میں موجود ہیں۔ سعادت ک
و اس کی خواہش کے خلاف دبائے ہوئے رکھا گیا ہے۔
ایک صوفی بزرگ، حاجی عبداللہ، اس لڑکی کے دل میں ا
یک امید کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس نے اپنی مدد سے
اسے ہمت دلائی۔ لیکن اس کی باتوں کو ہر طرف سے مذا
ق بنا دیا جاتا ہے۔
جبری شادی کے خلاف احتجاج کرنے والی سعادت کو اپنی
حوالگی کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے گھر کے ل
وگ اسے اپنی امانت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کے دل
میں غم اور انتقام کی لہر چلتی ہے۔
تقسیم ہند کے خون کی یادوں کے ساتھ، اس کی دوستی ا
یک صوفی بزرگ سے ہوتی ہے۔ اس نے اسے اپنی روح کے ل
یے ایک مبارک گھر دیا۔ لیکن اس کے ارد گرد کے قوان
ین اس کی مدد کرنے کے بجائے، اسے دباؤ میں ڈالتے ہ
یں۔
آخرکار، سعادت اپنے اپنے فیصلے کے ساتھ ایک نئی زن
دگی کی جانب بڑھتی ہے۔ اس کا غم اب ایک انتقامی تح
ریک کے ساتھ ملتا ہے۔
قدیم دور کے قوانین، جو ابھی تک معاشرے کے دل میں
گھر کر چکے ہیں، اس لڑکی کی دل کی تبدیلی کو بھی ت
بدیل کر دیتے ہیں۔ اس کی داستان اب ایک جبری شادی
کے خلاف جدوجہد کی شکل میں ملتی ہے۔


