1947 کے سفر میں لاہور سے کراچی کی طرف رات کا فضا
ئی سفر تھا، لیکن بجلی چلی گئی تو ہوائی جہاز ایک
سرحدی چوکی پر گر گیا۔ جہاز کے باقی بازوؤں میں سے
ایک ڈاکٹر، منیر حسن، اپنے سر پر شدید چوٹ کے سات
ھ زندہ نکلا۔
وہ چوکی کے اندر ایک خالی ہوائی جہاز کے ٹکڑے میں
پھنسا تھا — ایک تاریخی جگہ جہاں سالہا سال سے فوج
یوں کے انتظام کا نظام تھا، لیکن 1947 کے بعد سب ہ
ی چلے گئے۔ اب وہاں صرف ہوا، سکوت، اور ایک چھوٹی
سی اسپتال کی تعمیر تھی جس کا ہر ڈرائنگ چارج ایک
خاندانی کوڈ کے ذریعے چلتا تھا۔
منیر کو اس چوکی کی اصلی تعمیرات کی کوئی خبر نہیں
تھی، لیکن جب اس نے دیواروں کے پیچھے ایک ایک برس
وں پرانی روٹی کی بوری دیکھی تو وہ پہچان گیا — یہ
وہی ہوائی جہاز تھا جس کے ایک ساتھی نے اسے سرحدی
خطے میں رکھ دیا تھا۔ اس کے پاس ایک نشان ہے: "فو
جی ڈاکٹر کا کمپوزیٹ کوڈ" — اس کا مقصد نہیں، بلکہ
اس کی اجازت ہے کہ وہ اس جگہ کے چھوٹے سے ہنگامے
کو بند کر سکتا ہے۔
نظام چلتا تھا — ایک سیکشن میں ہر 24 گھنٹے بعد ہر
ڈاکٹر کو ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا، اور وہاں
ایک رشتہ دار کو ہر 72 گھنٹے میں ایک خون کی چیز
لے کر دینی ہوتی۔ جو ڈاکٹر 30 گھنٹے سے زیادہ جیل
میں رہتا، وہ ایک نشان بن جاتا — مافیا راج کی ایک
غیرمعمولی بات: وہ لوگ جو چھوٹے ہوائی جہازوں کو
بند کرنے والے ہو جاتے تھے۔
منیر کو 24 گھنٹے کے بعد ایک دروازہ کھولنا تھا —
اس کے لیے ایک چھوٹا سا ہنگامہ تھا، جس کے لیے اسے
ایک جیل کے دروازے کے پاس کھڑے ہونا تھا اور 15 م
نٹ تک صرف سانس لینی تھی۔ جب وہ نہیں سانس لیا، تو
ہوائی جہاز کے سرے پر ایک جھلک ہوئی، اور اس کی آ
واز ایک گھنٹے تک اس کمرے میں گونجتی رہی — اس نے
ہنگامے کو بند کر دیا۔
جیل سے رہائی کے بعد، وہ ایک پرانی ہوائی جہاز کے
کمرے میں اکیلا بیٹھا، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی س
ی چیز تھی — وہ روٹی کی بوری جو اس نے ہنگامے کے و
قت اٹھائی تھی۔ اس نے اسے ہوا میں اٹھایا، اور اس
کے ساتھ ایک سوال پھیل گیا: کیا یہ ہنگامہ ہمیشہ ہ
وگا؟ یا کوئی راستہ ہے جہاں کوئی ایسا ڈاکٹر ہو جو
صرف سانس لے کر بچ سکتا ہے؟
اور اس کے ہاتھ میں وہ بوری تھی — اب اس کی جیل کی
چابی نہیں، بلکہ ایک ہنگامے کی دھاری ہو گئی تھی۔


