1947 کی تقسیم کے وقت ایک سکھ خاندان نے لاہور کی
حویلی چھوڑ دی، مگر ان کی زمین پر اسلامی قبرستان
بنانے کی شرط تھی — جو زمین کو "روحانی غلام&
quot; بنا
دیتی ہے۔ جس کو بھی وہاں دفن کیا جائے، اس کی روح
حویلی کی حفاظت پر مجبور ہوتی ہے۔
2003 میں، برطانیہ میں پروان چڑھی عائشہ، اپنے مرح
وم چاچا کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے لاہور لوٹی۔ وہ
غیر ملکی دلہن کے طور پر حویلی میں داخل ہوئی، مگر
بطور وارث نہیں — بلکہ بطور قربانی۔ وصیت میں کہا
گیا: "جو بھی میری جگہ حویلی میں رہے، اس کی شادی
محلے کے سب سے غریب لڑکے سے ہو گی۔" یہ مردانہ نظ
ام کا فیصلہ تھا، جس نے عائلی ذمہ داری کو قانون ب
نا دیا۔
عائشہ نے انکار کیا، مگر حویلی کا دروازہ خود بخود
بند ہو گیا۔ رات کو صبح کی نماز کی اذان سنائی دی
، مگر مسجد نہیں تھی — صرف ایک پرانی گھڑی والی دی
وار تھی جو ہر بار اذان پر حرکت کرتی۔ قاعدہ تھا:
اگر شادی نہ ہو تو روحیں اسے رات کو زندہ دفن کر د
یں گی۔
وہ مختار نامی لڑکے سے ملی، جو گلی کا مزدور تھا۔
دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی، مگر ہر بار ج
ب وہ حویلی کے صحن میں اکٹھے ہوتے، چراغ خودبخود ج
ل اٹھتا۔ یہ خفیہ محبت کا نشان تھا — جو نظام کو ک
مزور کرتا۔
حیدر، جو حویلی کا پہلا غیر ملکی دلہن تھا (1965 م
یں)، اپنی بیوی کو قبرستان میں دفن کرنے سے انکار
کر بیٹھا تھا۔ اس کی سزا تھی: اس کی روح ہر نئی دل
ہن کو دھمکی دے۔ عائشہ نے اس کی ڈائری پائی — جس م
یں لکھا تھا: "محبت کو نظام سے نہیں، نظام کو محبت
سے توڑو۔"
2004 کی ایک رات، عائشہ نے منظوری دے دی۔ مختار نے
ہاتھ بڑھایا، مگر حویلی کی دیواریں ہلنے لگیں۔ قا
عدہ ٹوٹ چکا تھا: دلہن نے خود شادی کا فیصلہ کیا ت
ھا، نہ کہ مردانہ سربراہ۔
صبح ہوئی تو حویلی کا دروازہ کھلا تھا۔ قبرستان غا
ئب تھا۔ زمین اب "آزاد" تھی۔ مختار کی م
اں نے گھر
میں چولہا جلایا — پہلی بار 65 سال بعد۔
عائشہ نے لاہور چھوڑ دیا، مگر اپنا پاسپورٹ حویلی
میں چھوڑ گئی۔ برطانیہ واپسی کی فلائٹ منسوخ ہو گئ
ی۔ وہ دوبارہ بیرون ملک مقیم نہیں رہی۔
حویلی آج بھی کھلی ہے۔ کوئی بھی رات میں داخل ہو س
کتا ہے۔ مگر اب کوئی روح نہیں رکھتی۔ صرف ایک چراغ
جلتا ہے — جب دو دل ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔


