کراچی کے ایک پرانی گلی میں رہنے والی خواتین کی ہ
ر نظر میں گہرائی تھی۔ ان کے گھر کی دیواریں اس وق
ت تک کھڑی تھیں جب تک کہ ایک روز ایک ہفتہ کے بعد
ایک گھر کے مالک نے فیصلہ کیا کہ گھر کو ہی مار دے
۔
ان خواتین کی طرف سے جب کوئی ہمدردی نہیں آئی، تو
ایک مرد نے اپنی جان لے لی۔ وہ اپنی والدہ کے قتل
کا بدلہ لینے والے ہیرو تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک
چھوٹا سا ہتھیار تھا، لیکن اس کی نظر میں گہرائی
تھی۔
اگلے ہفتے، اس کی سیاہ گاڑی گلی میں آئی۔ گھر کے د
روازے پر اس کی ہتھیار کی جھلک ہوئی۔ خواتین نے اپ
نے گھروں کے اندر چھپ کر گھر کے مالک کو بلایا۔ گھ
ر کے مالک نے ان کی طرف دیکھا، اور اس کی نظر میں
ایک اور جان چھو گئی۔
اس وقت تک، ہر خاتون کے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا ہ
تھیار تھا۔ وہ اپنی جان لے لے گئیں۔ گھر کے مالک ن
ے ہر ایک کو ایک ایک کر کے مار دیا۔
جب اس ہیرو کے ہاتھوں میں ایک آخری ہتھیار رہ گیا،
تو وہ گھر کے دروازے پر کھڑا رہ گیا۔ گھر کے اندر
سے کوئی آواز نہیں آئی۔ وہ اپنی والدہ کے قتل کا
بدلہ لے گیا۔
معلوم ہوا کہ گھر کے مالک نے ایک اور ہتھیار رکھا
تھا۔ وہ اس ہیرو کو بھی مار گیا۔
خواتین نے اپنی جانیں چھوڑ دیں۔ گھر کے مالک کے قت
ل کا بدلہ لے گئیں۔
آج کراچی کی گلی میں کوئی گھر نہیں۔ صرف ایک چھوٹا
سا ہتھیار ہے، جو ایک ہیرو کے ہاتھوں سے گر گیا۔


