1947 کی گرمیوں میں لاہور کی ایک حویلی میں آگ لگی
تھی، جس میں ایک ہندو خاندان سمٹ کر جل گیا۔ فرار
ہونے والی بیوہ ماں نے اپنی نوزاد بیٹی کو پنجابی
گھرانے کے دروازے پر چھوڑ دیا۔ اس بچی کو "نو
ر" ن
ام دے کر پالا گیا، مگر اس کے خون میں دونوں براعظ
م کا درد سمٹا تھا۔
آج، نور (32)، کراچی کی ایک زنانہ رسالے کی سینئر
صحافی ہے، جو تقسیم ہند کے معصوم متاثرین کے انٹرو
یو جمع کرتی ہے۔ اس کا کالم "بچے جنہوں نے دیکھا ت
ھا" مقبول ہوتا ہے، مگر ادارتی دباؤ بڑھتا ہے کہ و
ہ "زیادہ جارحانہ" مواد شامل کرے۔ وہ اپ
نے ضلع کے
قصبوں میں جاتی ہے، جہاں بزرگ خوف میں سر جھکائے ب
ات کرتے ہیں۔
ایک رات، وہ ایک بوڑھی عورت کے پاس جاتی ہے جس نے
لاہور کی اس حویلی کا ذکر کیا۔ عورت کا کہنا تھا ک
ہ "وہ بچی زندہ ہے، اور وہ تمہارے شہر میں ہے
"۔ نو
ر کے ذہن میں اپنی ماں کی تصویر کھنچتی ہے — جو ہم
یشہ کہتی تھی کہ "ہم سب کچھ بھول کر پاکستانی بن گ
ئے"۔
نور اپنی ذاتی تحقیق میں گہرائی میں جاتی ہے۔ وہ ا
یک پرانی فائل حاصل کرتی ہے جس میں اس کے نام پر ا
یک نقلی اسلامی تبدیلیِ مذہب کا دستاویز موجود ہے،
جس پر تاریخ 1948 کی ہے۔ دستخط اس کے پالک باپ کے
نام سے ہیں، مگر انکی شکل مختلف ہے۔ وہ اس فائل ک
و اپنے ساتھی صحافی کو دکھاتی ہے، جو خاموشی سے سر
ہلا دیتا ہے۔
اسی شب، اس کی تصویر ایک مقامی ویب سائٹ پر آ جاتی
ہے — عنوان: "لو جہاد کی شکار؟ یا دشمن کی ایجنٹ؟
"۔ اس کے خلاف فتویٰ کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس ک
ے دفتر کے باہر مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس کی فیملی کو دھ
مکیاں ملتی ہیں۔ اس کا بھائی اس سے لاپتہ ہو جاتا
ہے۔
نور کو احساس ہوتا ہے کہ اس کا صحافتی کام صرف اس
کے پیشے تک محدود نہیں — یہ اس کے وجود کا سوال ہے
۔ وہ اپنی ماں کے قدیم خطوط دوبارہ پڑھتی ہے، جن م
یں ایک جگہ لکھا ہے: "تمہاری آنکھیں تمہاری دادی ج
یسی ہیں، مگر تمہیں کبھی نہیں بتایا گیا"۔
وہ لاہور واپس جاتی ہے۔ اس کی پرانی حویلی کے کچھ
حصے اب بھی کھڑے ہیں۔ وہاں ایک بزرگ نے اسے بتایا
کہ اس کی اصل ماں نے خودکشی کر لی تھی، مگر اس سے
قبل اس نے ایک خط چھپا دیا تھا — ایک دیوار میں۔ ن
ور دیوار توڑتی ہے، اور ایک سیاہی مٹی کے برتن میں
ایک خط ملتا ہے۔
خط میں لکھا ہے: "میری بیٹی، اگر تم یہ پڑھ رہی ہو
تو سمجھ لو کہ تم ہندو ہو، مگر تمہیں پاکستانی بن
نا ہے۔ میں نے تمہیں اس لیے چھوڑا کہ تمہیں زندہ ر
ہنے کا موقع ملے"۔
نور وہ خط اپنے ساتھ لے آتی ہے، مگر اس کے بعد کوئ
ی اشاعت منظور نہیں ہوتی۔ اس کا ادارہ اس کے خلاف
موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے خلاف فیملی کورٹ میں ک
یس درج ہوتا ہے کہ وہ "قومی شناخت چھپا رہی ہ
ے"۔
وہ اپنے گھر واپس آتی ہے، اپنے تمام نوٹس، فائلیں،
تصاویر جلانے لگتی ہے۔ ایک صبح، وہ اپنی بالکونی
میں بیٹھی ہے، اور سمندر کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس ک
ے ہاتھ میں وہ خط ہے۔ وہ اسے اپنے سینے سے لگاتی ہ
ے۔
اس دن، کراچی کے تمام اخبارات میں ایک چھوٹی سی خب
ر شائع ہوتی ہے: "صحافی نور بٹ نے استعفیٰ دے
دیا"
۔
نور اپنے گھر کی چھت پر ایک چادر بچھاتی ہے، اوپر
"تقسیم" لکھتی ہے، اور نیچے "اتحاد
"۔ وہ وہاں بیٹھ
کر بچوں کو پڑھاتی ہے — تقسیم کی سچی کہانیاں، بغ
یر نفرت کے۔
اس کا آخری کالم کبھی شائع نہیں ہوتا، مگر ایک طال
بہ اس کی ڈائری چُراتی ہے، اور اسے ایک کراچی کے ک
الج میں پڑھا جاتا ہے۔


