1947 کے بعد، بھارت کی تقسیم کے خوف سے پاکستان کے

دیہات میں آبادی کا رخ بدل رہا تھا۔ گاؤں کے نمبر

دار، علی بخش، اپنے قبائلی زندگی کا تحفظ کرنے کی

کوشش کر رہا تھا۔ اس کی بیٹی، رابعہ، نے اسلام کی

پیروی چھوڑ کر ہندو مذہب کی طرف رجوع کر لیا تھا۔

گاؤں کی اجتماعی اخلاقیات اس تبدیلی کے خلاف تھی۔

علی بخش کو اپنی بیٹی کے ساتھ جبری شادی کرنے کا د

باؤ ہوا۔ وہ اپنے دل کے درد کو چھپائے رہا۔ رابعہ

نے اپنے انتخاب کے لیے ایک مذہبی پادری کی مدد لی۔

ایک رات، علی بخش نے اپنی بیٹی کو گاؤں کے اجتماع

میں پیش کیا۔ رابعہ نے اپنے فیصلے کو واضح کیا۔ اس

کے احترام کے باوجود، گاؤں کے لوگوں نے اسے غیر م

قبول قرار دے دیا۔

علی بخش کو اپنی بیٹی کی دل کی گہرائی سمجھنے کی ض

رورت تھی۔ وہ اسے ایک غمگین دل کے ساتھ چھوڑ کر اپ

نے قبائلی زندگی کے معاشرتی قواعد کی پاسداری کرنے

کی کوشش کرتا رہا۔

غمگین ماحول میں، گاؤں کی دیہاتی زندگی کے نظام می

ں ایک تبدیلی ابھر رہی تھی۔ علی بخش کے دل میں ایک

نئی سیکھ ہو رہی تھی۔ اس کا فیصلہ اس وقت کا تھا،

جب اس نے اپنی بیٹی کے لیے ایک نیا راستہ تلاš کی

ا۔