1947 کے تقسیم کے بعد، لاہور کے ایک خاندان کی لڑک
ی زنا نہ ہونے کے الزام پر حوالات میں ڈال دی جاتی
ہے۔ اس کے باپ، جو ایک قدیم ملک کے فوجی افسر تھے
، اپنی شرم و غیبت کی حفاظت کرنے کے لیے اس کی رہا
ئی کے لیے ایک اجنبی ملک کے عدالتی نظام میں درخوا
ست دیتے ہیں۔
تقسیم کے بعد کے حالات نے ایک نیا قانونی نظام کو
جنم دیا، جس میں اسلامی شریعت اور انگریزی قوانین
کے درمیان تضاد موجود تھا۔ اس فوجی افسر کو اپنی ا
ولاد کی نجات کے لیے اس نظام میں اپنی پوزیشن استع
مال کرنا پڑتا ہے۔ اس کے احاطے میں داخل ہونے والے
تمام لوگ اسے ایک "غیر ملکی" سمجھتے ہیں۔
عدالت کی کمرہ میں ایک بڑا ماحولیاتی تبدیلی ہوتی
ہے۔ یہاں ایک نیا قانونی آپریشن کیا جاتا ہے، جس م
یں تعلیمی تربیت کو اسلامی اصولوں کے تحت دوبارہ ت
رتیب دیا جاتا ہے۔ فوجی افسر کو اس عمل میں شامل ہ
ونا پڑتا ہے۔
ایک ایسا قانون لازم ہوتا ہے کہ تمام مقدمات میں ت
علیمی ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے اس کی لڑکی
کے ذہنی صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی ایک تعل
یمی کتاب، جو اس کے بچپن سے لکھی گئی تھی، اس کی ب
ے گناہی کا ثبوت بن جاتی ہے۔
عیسائی اور مسلمان فوجیوں کے درمیان ایک ٹانک کے ا
یک ہفتے کے دوران، اس فوجی افسر کو اپنی شریعت کی
روشنی میں ایک تعلیمی نصاب کو تیار کرنا پڑتا ہے۔
اس کی لڑکی کی رہائی کے لیے ایک تعلیمی معائنہ کرا
یا جاتا ہے، جس میں اس کی ادبی صلاحیتوں کی تعریف
ہوتی ہے۔
تین ماہ بعد، جب اس کی لڑکی کی رہائی ہو جاتی ہے،
تو اس فوجی افسر کو ایک نیا فرض سمجھا جاتا ہے: اس
کی بیٹی کو اسلامی تعلیم کے تحت ایک ادارے میں دا
خل کرنا۔ اس موقع پر اس کے دل کی دھڑکنیں ایک نیا
دل دہلا دینے والا احساس کی طرف جاتی ہیں۔
اس کی لڑکی کی رہائی، اس کے انتقام کے لیے ایک تعل
یمی کشمکش کا اصلی مرکز بن جاتی ہے۔ اس کے دل کے گ
ہرے کونے میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا ہمدردی ک
ا احساس پیدا ہوتا ہے، جو اسے اپنی اصلی زندگی کی
جانب واپس لاتا ہے۔


