1947 کے موسمِ خزاں میں، سرحد کے قریب ایک چھوٹے گ

اؤں کے نمبردار رحیم دین نے دیکھا کہ ریلوے لائن ک

ا راستہ بدل گیا۔ فوجی چوکیاں کھڑی ہوئیں، گاؤں وا

لوں کے قدیمی راستے بند ہو گئے، اور جنگل کے کنارے

والی کچی سڑک "غیرقانونی" قرار دی گئی۔

دنیاوی نظ

ام ٹوٹا، رشتے کے راستے ختم، صرف وہی منزل مانی جا

نے لگی جہاں فوج کی چوکی تھی۔

رحیم دین کے گھر کی حویلی، جو صدیوں سے گاؤں کے مر

کز میں تھی، اب سرحد کے اندر شمار ہونے لگی۔ حکومت

کے نوٹس نے جگہ خالی کرنے کا حکم دیا، مگر وہ نہی

ں مانا — نمبردار کا عہدہ، زمین، اور عزت ایک دوسر

ے میں لتھڑے تھے۔ اس کی بیٹی کی منگنی ایک لاہوری

خاندان سے ہوئی تھی، مگر دُلہا تقسیم کے بعد واپس

نہ آیا۔ گاؤں والوں نے سمجھا: لڑکی کا مستقبل تباہ

، غیرت مجروح۔

ماضی قریب کی دہلیز پر، نئی دنیا کے قوانین نے دست

ک دی: جو راستہ فوج نہ مانے، وہ وجود نہیں رکھتا۔

رحیم دین نے دیکھا کہ کچھ نوجوان رات کو جنگل سے س

امان لے کر آتے ہیں — کپڑے، دوائیں، چینی، بجلی کے

بلب۔ وہ سمجھا: یہ سمگلنگ روٹ ہے، مگر گاؤں کی سا

نس بھی۔ وہ خاموشی سے راستہ دینے لگا، اپنے کتے کو

باندھ کر، اپنی زمین کے کنارے کھلی گلی کو نشان ب

نایا۔

ایک رات، بارش میں، اس نے اپنے بیٹے امتیاز کو دیک

ھا — فوجی وردی میں، ایک دوسرے کے گروہ کے ساتھ، ج

و جنگل سے نکل رہا تھا۔ اس کے کندھے پر بندوق تھی،

ہاتھ میں ایک تھیلا، جس پر "میڈیکل ایڈ"

لکھا تھا

۔ رحیم دین نے دیکھا: امتیاز کا گروہ وہی سامان سم

گل کر رہا تھا جو گاؤں کے بچوں کی زندگی بچا رہا ت

ھا۔ مگر وردی نے حق اور غلط کو مٹا دیا۔

دوسرے دن، فوج کی چوکی نے اطلاع دی: "غیرقانونی سر

گرمیوں" کے خلاف آپریشن ہوگا۔ رحیم دین نے اپنی حو

یلی کا دروازہ کھول دیا، اپنے بیٹے کے نام کا خط ب

ھیج دیا، جس میں صرف ایک جملہ تھا: "تمہاری والدہ

کی قبر پر چراغ روشن رکھنا۔" وہ رات، وہ جنگل کے ک

نارے والی کھلی زمین پر کھڑا رہا، جہاں فوجی جوانی

کا نظام اور گاؤں کی زندگی کا راستہ ٹکراتے تھے۔

صبح، فوجی چوکی والوں نے دیکھا: زمین پر ایک لالٹی

ن رکھی تھی، اس کے نیچے ایک نقشہ — نئے سمگلنگ روٹ

کا، جو فوجی چوکی کو بائی پاس کرتا تھا، مگر گاؤں

تک سامان پہنچاتا تھا۔ رحیم دین کا نام اس پر نہی

ں تھا، مگر ہر کوئی جانتا تھا۔ اسی دن، حکومت کے ح

کم سے اس کی حویلی کو "سرحدی زون" میں ش

امل کر دیا

گیا۔

لالٹین تین دن تک جلتی رہی، پھر بجھ گئی۔ مگر اس ک

ے بعد، فوجی چوکی نے کبھی اس راستے پر چھاپہ نہیں

مارا۔ گاؤں والے کہتے ہیں: نمبردار کی روح اب بھی

رات کو جنگل کے کنارے چراغ جلاتی ہے — وہی جذبات ج

و کبھی بول نہ سکے، اب زمین کے ذریعے بولتے ہیں۔