1947 کے بعد کے سال۔ تقسیم کے زخم ابھی تازہ تھے۔
سرحدی گاؤں میں ایک ویران حویلی کھڑی تھی، جس کی ن
یمبڑی دیواروں میں وہ قانون چلتا تھا جو زمیندار ک
ے خاندان نے بنایا تھا: کوئی عدالت، کوئی حکومت، ص
رف "مردانہ" فیصلہ کرتا تھا — وہ مرد جو
گھرانے کی
سربراہی کرتا، اور اس کا فیصلہ شہر تک کے افسروں
کو منظور کرنا پڑتا۔
ایک برسات کی رات، سرحدی ندی میں لہر آئی، اور اس
کے ساتھ ایک نوجوان عورت بہہ کر گاؤں میں آ پہنچی۔
ہندوستانی شناختی کاغذات، مگر مسلمان نام — زینب۔
مقامیوں نے سمجھا وہ بھاگی ہوئی دلہن ہے۔ زمیندار
کے بیٹے نے حکم دیا: اسے حویلی میں لاﺅ۔ اگلے دن،
نکاح کا اعلان ہوا — زینب اب اس گھرانے کی بیوہ د
لہن تھی، غیر ملکی دلہن، جس کے وجود کو مٹانے کا م
نصوبہ پہلے ہی بن چکا تھا۔
حويلى کی زمین کے نیچے قدیم نہر کا نظام تھا، جسے
زمینداروں نے سمگلنگ روٹ بنا دیا تھا۔ رات کے اندھ
یرے میں مال، ہتھیار، انسان — سب نیچے کی سرنگوں س
ے گزرتے۔ قافلے کی ہر سرگرمی کا فیصلہ مردانہ کرتا
۔ کوئی سوال نہیں، کوئی معافی نہیں۔ ایک دن، زینب
نے سرنگ کا نقشہ دیکھا — اس کے باپ کے ہاتھ کا لکھ
ا ہوا تھا، جو تقسیم کے وقت لاپتہ ہوا تھا۔ وہ سمج
ھ گئی: یہی سرنگ اس کے گھر والوں کو بھی اغوا کرنے
کے لیے استعمال ہوئی تھی۔
جب اگلے قافلے کی تیاری ہوئی، تو زینب نے سرنگ کی
دیوار میں آتش لگا دی۔ گیس کا رساؤ ہوا، دھماکا ہو
ا، سرنگ بند ہو گئی۔ سرحدی فورسز حرکت میں آئیں۔ ز
میندار کے بیٹے نے اسے مارنے کا حکم دیا، مگر مردا
نہ — بوڑھا والد — خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں کچ
ھ ٹوٹ چکا تھا۔ اس رات، حویلی کے دروازے کھل گئے۔
زینب نے آگ کے اندر کھڑے ہو کر سرنگ کے منہ پر کھڑ
ے تمام سمگلروں کو دیکھا، مگر کسی نے قدم نہ بڑھای
ا۔
اگلے ہفتے، سرحدی انتظامیہ نے علاقے کی نگرانی تبد
یل کر دی۔ مردانہ کا اختیار ختم ہو گیا۔ جاگیردارا
نہ ظلم کا نظام جس پر دہائیوں سے عمل ہوتا، اب صرف
ایک یاد تھا۔ زینب نے حویلی کے صحن میں ایک مدرسہ
شروع کیا — لڑکیوں کے لیے — جہاں تقسیم کے ذخیرے،
خطوط، تصاویر رکھے گئے۔
ایک برس بعد، بارش ہوئی۔ صحن کی مٹی سے ہری گھاس ن
کلی۔ بچے قرآن پڑھتے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ زینب
کہاں گئی، مگر اس کی چادر اب صحن کے درخت سے لٹکی
تھی — ہوا میں، جیسے دعا۔


