2019 کا ایک سرد دسمبر کا دن، لاہور کے وسط میں جم
اعتِ عصرِ حاضر کے ایک فقیہ نے سامعین کو "روایت ب
مقابلہ جدت" کے نام سے ایک خطاب دیا۔ اس کی تقریر
کے بعد، شہر کے تمام گھریلو سیٹلائٹ سگنلز اچانک ب
ند ہو گئے۔ صرف ایک چینل باقی رہا — مردانہ۔
اس چینل کی توجہ تھی: "تمہاری روزمرہ زندگی کو دیک
ھنا، تمہارے گھروں کے اندر کی دعا کو سننا، تمہاری
دل کی بات کو تسلیم کرنا۔" ہر رات، 8 بجے، ایک قص
ّہ پڑھا جاتا — ایک حقیقت کا نمونہ، ایک پرانے گھر
کی کہانی، ایک غیر منظور شدہ پیار کا اعتراف۔
احمد، ایک مذہبی پیشوا، اپنی جماعت کے لیے فضول تص
ور کیے گئے ہر موڑ پر چلتا تھا۔ اس کے پیار کا اعت
راف ایک دوسرے کے رشتے میں بندھے ہوئے تھا — ایک ک
راچی کی لڑکی، جس کی شادی ایک سال پہلے کر دی گئی
تھی، اور جو اب اپنے گھر سے نکل کر رات کے اندھیرے
میں چلی آئی تھی۔
جب وہ مردانہ کے چینل کے 37ویں ایپی سوڈ میں اپنے
دل کی آواز کو سنتی، تو اس کے گھر کے دوسرے حصے می
ں ہر سال 25 دسمبر کو دوبارہ ہونے والی "حیاتِ فکر
" کی تقریر کا ریکارڈ چلنا شروع ہو گیا — ایک تاری
خی روایت، جو اب تک کسی نے نہ سنی تھی۔
مہنگائی نے شہر کو چھوڑ دیا، گھریلو سیم کارڈز ختم
ہو گئے، لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ صرف ایک چی
نل کو دیکھیں۔ جو کوئی مردانہ کے چینل کو نہ دیکھت
ا، اس کے گھر میں رات کو بجلی ختم ہو جاتی۔
احمد نے ایک دن اپنے روضے میں ایک نیا فتویٰ جاری
کیا: "جو کوئی مردانہ کے چینل کو دیکھے گا، وہ اپن
ی سوچ کو دیکھے گا — اور اس کی موت بھی اس کے ساتھ
ہو جائے گی۔"
لیکن جب اس کی بیوی نے اپنے گھر کے دروازے پر ہاتھ
دھر کر کہا: "میں تمہاری آواز کو سنتی ہوں، تمہار
ی خاموشی کو سمجھتی ہوں"، تو اس کے گھر کے چراغ چم
ک اُٹھے۔
آج، جماعت کے چھوٹے سے ہال میں، ہر شخص نے مردانہ
کے چینل کو دیکھا — ایک فلم میں ایک لڑکا اپنی ماں
کو دیکھ رہا تھا، جس نے 40 سال پہلے اسے چھوڑ دیا
تھا۔
اور وہ لڑکا نہیں، وہ احمد تھا — جس کے پیار کا اع
تراف آج سائے کے نیچے چمکا۔
جیسے ہی وہ گھر واپس آیا، اس کے گھر کی بجلی چلی،
اور ایک چینل پر صرف ایک لفظ چمکا: "خدا کے سامنے
سب کچھ ہے۔"


