کراچی کی روشنیوں میں، جہاں عصرِ حاضر کی تیزی نے

قدیم حویلیوں کو تباہ کردیا، ایک کرپٹ پولیس والا

نے اپنے گھر کی چھت پر بیٹھ کر اپنی زندگی کا آخری

اعتراف کیا۔ اس کے باپ کی قبر کے سامنے اس کا نام

لکھا ہوا تھا: "مردانہ"۔ وہ ہر روز اپنی

نفسیاتی

تنہائی کے ساتھ جھیل رہا تھا، اس کی جیب میں ایک ف

وٹو چھپی ہوئی تھی، اس کی پیار کی گواہی کا ثبوت۔

اس کے دل میں ایک خاتون کی تصویر چھپی ہوئی تھی، ج

و اس کی اصل زندگی کی ایک ہی چیز تھی۔ اس کے پاس ا

یک قانونی مسئلہ تھا، جبری شادی کے تحت اس کی والد

ہ نے اسے ایک دوسری خاتون سے جوڑ دیا تھا۔ اس کی آ

نکھوں میں اس وقت سے ایک اعتراف کا جذبہ تھا، جب و

ہ اس خاتون کے ہاتھوں میں ایک لیٹر دیکھتا تھا۔

جب اس کا دوست اسے ایک ملاقات کے لئے بلاتا ہے تو

اس کا دل ہر لمحہ ڈر کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ اس ملا

قات میں وہ خاتون سے ملاقات کرتا ہے، جو اس کی جوا

نی کی یادوں کا حصہ تھی۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ اس کے

لئے ایک رومانوی راستہ موجود ہے، لیکن اس کے لئے

ایک ہی راستہ ہے: اس کی زندگی کی گواہی دینا۔

اس کی جیب میں ایک قانونی لیٹر ہوتا ہے، جس میں اس

کے بارے میں تمام حقائق درج ہوتے ہیں۔ اس نے اپنی

زندگی کا اعتراف کر دیا، اور اس کی نفسیاتی تنہائ

ی کا آخری باب بند ہو گیا۔ اس کا دل اب ہر لمحہ اس

خاتون کے ساتھ رومانوی تعلق کے ساتھ پھول رہا ہے۔

عصرِ حاضر کی تیزی نے اس کی زندگی کے ہر حصے کو مت

اثر کیا، لیکن اس کے دل کی دھڑکن ہمیشہ اس خاتون ک

ے ساتھ ملتی رہی۔ اس کا اعتراف کرنا اس کی نفسیاتی

تنہائی کا انتہائی آخری چرچا تھا، اور اس کا دل ا

ب اس کے ساتھ رومانوی تعلق کے ساتھ جڑ گیا۔