1948 کا موسمِ برسات تھا، لاہور کے قریب ایک چھوٹے
سے گاؤں میں پانی کے دائرے میں گھرا ویرانہ صوفی
خانقاہ کھڑا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد آبادی بدل چکی
تھی، اور نئے مالکان نے خانقاہ کی زمین "مردانہ ح
ق" قرار دے کر اپنی حویلی کی بنیاد رکھ دی۔ رسم یہ
تھی کہ برسات میں خانقاہ کے دروازے کھلتے، مگر اب
وہاں فصل لگ چکی تھی۔
رات کو بارش میں ایک بیوہ خاتون، ثانیہ بیگم، نئی
سسرال میں داخل ہوئی۔ اس کی ماں مر چکی تھی، باپ ن
ے کہا تھا: "شوہر کا گھر تیرا قبلہ ہے۔"
جبری شادی
کا فیصلہ محرام کے دن اکوتیسواں منانے کے دوران ہ
وا تھا، جب سسرال والوں نے کہا: "بیوہ گھر کا بوجھ
، شادی ہی اس کی نجات ہے۔"
ثانیہ کو حویلی کے اندرونی حجرے میں رکھا گیا، جہا
ں سے خانقاہ کا مینار دکھائی دیتا تھا۔ اس کی نظری
ں روز اس پر جمی رہتیں۔ لوگ کہتے تھے کہ وہاں پران
ی روشنی آتی ہے، مگر کوئی جانے کی ہمت نہ کرتا — م
ردانہ کا غلام نظام اب زمین کا بھی فیصلہ کرتا تھا
۔
ایک دن، بارش میں خانقاہ کی دیوار گر گئی۔ کچھ بزر
گوں نے کہا کہ وہاں سے نور کی لکیر نکل رہی ہے، مگ
ر سردار نے حکم دیا: "کوئی نہیں جائے گا۔ زمین میر
ی ہے، میں ہی طے کروں گا کہ کیا کھیتا ہے۔" اسی شب
، ثانیہ نے اپنی چادر اوڑھی، بارش میں ننگے پاؤں چ
ل پڑی۔
وہ خانقاہ کے اندر داخل ہوئی۔ وہاں ایک بوتل ملی،
جس میں سرخ مٹی تھی — قدیم روایت کے مطابق، جو عور
ت اس مٹی سے منہ لگائے اور خدا کے سامنے سجدہ کرے،
اس کی آواز سنی جاتی ہے۔ ثانیہ نے ایسا ہی کیا۔ ا
س کا سجدہ، زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔
اگلے دن، خانقاہ کے گرد نیا چشمہ پھوٹا، جس کا پان
ی گاؤں کی تمام کنوؤں میں بہہ گیا۔ بچے شفا یاب ہو
نے لگے، جنہیں برسات کے بعد بخار لگتا تھا۔ سردار
نے پولیس بلائی، مگر تھانیدار نے کہا: "لوگ کہتے ہ
یں یہ معجزہ ہے۔ میں کیسے خدا کے خلاف مقدمہ کروں؟
"
مردانہ کا نظام ڈگمگا گیا۔ کچھ خواتین نے خانقاہ ک
ا رخ کیا، مگر زیادہ تر خوف کے مارے گھروں میں رہی
ں۔ تھوڑے دن بعد، سردار نے ثانیہ کو طلاق دے دی، ک
ہا: "تو جنات کی ہے، ہمارے گھر نہیں چلے گی۔&
quot; وہ ب
ے نامی کے ساتھ چلی گئی، مگر ہر برسات میں گاؤں وا
لے خانقاہ کے گرد اکٹھے ہوتے — ایک خاموش رسم، جہا
ں عورتیں بغیر کچھ کہے سجدہ کرتیں۔
زمین کا نظام بدل چکا تھا۔ مردانہ کا حق ٹوٹ گیا ت
ھا، نہ کہ قانون سے، بلکہ ایک بیوہ کے غم کی وجہ س
ے، جس نے خدا کے سامنے سر جھکا دیا تھا۔ خانقاہ کی
زمین دوبارہ مشترکہ تھی۔ کوئی مالک نہیں، صرف سجد
ہ۔


