1947 کے آخر میں، لاہور کی ایک حویلی میں آتش زدگی
کے بعد دیوار سے ایک لکڑی کا تختہ ٹوٹ کر گرا۔ نو
کرانی رضیہ، جو صبح سویرے برتن دھوتی تھی، نے اندر
سے ایک پرانا خط نکالا۔ مہر پر قلعی کا نشان تھا،
لفافہ برطانوی اسٹائل میں مہر بند، لیکن اندر صرف
ایک نقشہ تھا — ریلوے ٹریک سے ہوتا ہوا دریائے را
وی کے کنارے ایک غار تک، جہاں "چاند کے وقت&q
uot; سامان
اترتھا۔
خط کا مالک، حویلی کے مالک حافظ صاحب، اس وقت بیرو
نِ ملک تھے۔ گھر میں صرف ان کی بیوہ بہن زینب بیگم
تھیں، جن کی آنکھوں میں شک کا بخار تھا۔ رضیہ نے
خط چھپا لیا، لیکن اس رات، زینب بیگم کے کمرے سے ا
یک پرانی تصویر غائب ہو گئی — وہ جہاں حافظ صاحب ا
ور ایک سکھ تاجر ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے
کھڑے تھے۔
سمگلنگ روٹ اب بھی استعمال ہو رہا تھا۔ رضیہ نے دی
کھا: ہر بدھ کی رات، ایک موٹر سائیکل والے کا لڑکا
حویلی کے پیچھے والے کنویں کے پاس ایک ڈبہ چھوڑ ج
اتا۔ اندر چینی، افیون، اور کبھی کبھی نقلی پاسپور
ٹ ہوتے۔ وہ ڈبے زینب بیگم کے نوکر، معزول فوجی رحم
ت، کو ملتے، جو رات کو ریل کے پل کے نیچے غار میں
لے جاتا۔
خاندانی عزت کا دائرہ تنگ ہونے لگا۔ زینب بیگم نے
رضیہ کو شبہ کی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ایک دن، ر
ضیہ کے کمرے کی چابی ٹوٹی ہوئی ملی۔ اندر خط نہیں
تھا، لیکن اس کی بستی والی بہن کا خط تھا — لکھا ت
ھا: "بھائی مر گیا، تمہاری ماں فرما رہی ہے کہ واپ
س آؤ۔"
رضیہ نے فیصلہ کیا۔ وہ خط سمیت ریلوے اسٹیشن گئی۔
ایک قدیم پوسٹ آفس کے تابوت نما باکس میں خط ڈال د
یا، جس پر صرف لکھا تھا: "حافظ صاحب، لاہور، پاکست
ان"۔ لیکن خط کے ساتھ اس نے ایک سادہ سا نوٹ بھی چ
پکا دیا: "غار میں اب بچے رہتے ہیں۔"
اگلے دن، ریلوے ٹریک کے قریب پولیس کی گشت نے غار
کو توڑ دیا۔ اندر سے کچھ بال بچوں کے بال، کچھ ٹوٹ
ے برتن، اور ایک پرانی سرکاری چیک بک نکلی، جس پر
حافظ صاحب کا نام تھا۔ رحمت گرفتار ہوا۔ زینب بیگم
نے حویلی کے تمام دروازے بند کر دیے۔
رضیہ کو نوکری سے نہیں نکالا گیا۔ لیکن اس کے کمرے
کے سامنے اب ایک نیا تختہ لگا دیا گیا — "بیگم صا
حبہ کی طرف سے تحفہ"۔ اس پر لکھا تھا: "
تمہاری ماں
کا علاج لاہور ہسپتال میں شروع ہو گیا ہے۔"
صبح کی نماز کے بعد، رضیہ نے اپنا چادر سنبھالا، ح
ویلی کے باہر کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی جش
ن نہیں تھا۔ صرف ایک سنجیدہ سکون تھا، جیسے کوئی ب
وجھ سینے سے اتر گیا ہو۔ وہ رکھوالی کرتی رہی، لیک
ن اب وہ خدمت نہیں، بلکہ نگرانی تھی۔
مردانہ نظام ٹوٹ چکا تھا۔ وہ عورت جسے صرف دیکھا ج
اتا تھا، اب دیکھ رہی تھی۔


