سجاد پور کے گاؤں سے فاطمہ، بیس سال کی معصوم دیہا
تی لڑکی، قومی حجاب میں لپٹی، بس سے لاہور پہنچی۔
اس کے بھائی کی موت کے بعد، ورثے میں ملنے والی کو
ٹھی اس کی واحد پناہ گاہ تھی۔ شہر کی گلیاں نئی تھ
یں، روشنیاں چمکدار، مگر ہر دروازے پر مردانہ طاقت
کا نشان۔
لاہور کے "عصرِ حاضر" میں، سرکاری نظام
صرف کاغذوں
تک محدود تھا۔ اصل اختیار مافیا کے ہاتھ میں: وہی
رجسٹری کرواتا، وہی پانی بیچتا، وہی ہسپتالوں میں
داخلہ دلاتا۔ عمارتوں کے نیچے زیر زمین ٹیوبز میں
خون کے ٹرانسفر کا نظام چلتا — ہر اینٹ کے نیچے ا
یک لاش، ہر بل کے پیچھے ایک دھمکی۔ مافیا کا قانون
: جو گواہی دے، اس کا خون خشک ہو جائے۔
فاطمہ نے کوٹھی میں رہنا شروع کیا۔ پہلے دن، درواز
ے پر ایک بند لفافہ: "رجسٹری کے لیے رقم ادا کرو،
ورنہ کوٹھی خالی کرو"۔ اس نے پیسے نہ دیے۔ اگلے دن
، پانی بند۔ تیسرے دن، بجلی غائب۔ چوتھے دن، درواز
ے پر خون کے نشان۔ مگر اس نے باہر قدم نہ رکھا۔ تن
ہائی اس کی دعا بن گئی، ہر رات وضو کے بعد سجدے می
ں گزاری۔
ایک شب، چھت پر آوازیں۔ مافیا کے لوگ کوٹھی کی چھت
پر منڈل رہے تھے۔ فاطمہ نے اندر سے دروازہ بند کر
لیا، چراغ بجھا دیا۔ صبح، پوری کوٹھی کے باہر خون
سے لکھا تھا: "آخری موقع"۔ مگر وہ نہ نک
لی۔ دن گز
رے، وہ نمازیں پڑھتی، کھانا بچا کر رکھتی، کتابوں
میں لکھتی۔ اس کی تنہائی نے محلے والوں کو حیران ک
ر دیا۔
ساتویں ہفتے، ایک بوڑھی عورت پیچھے کی دیوار سے بو
لی: "تمہاری ماں کی قسم، مجھے ایک خط دے دو&q
uot;۔ فاطم
ہ نے ایک لکیریں بھری کاپی دی، جس پر اس نے ہر دن
کی تنہائی لکھی تھی۔ عورت چلی گئی۔ اگلے دن، اخبار
کے پہلے صفحے پر عنوان: "مافیا کی رجسٹری کا دھوک
ہ"، ساتھ تصویر: خون میں لت پت کوٹھی کے نشان۔
پولیس حرکت میں آئی۔ مافیا کے تین سردار گرفتار۔ ع
دالت نے کوٹھی فاطمہ کے نام کی۔ شہر کے نظام میں د
ھماکہ خیز تبدیلی آئی: رجسٹری کے لیے اب بائیومیٹر
ک، نادرا کا کنٹرول، مافیا کے زیر زمین ٹیوبز منہد
م۔ مافیا کا خونی نظام ٹوٹ گیا۔
فاطمہ نے کوٹھی کھول دی، اسے یتیم خانے میں بدل دی
ا۔ وہ خود اس کے صحن میں ایک کمرے میں رہنے لگی۔ ہ
ر صبح، بچے اس کے قدموں میں بیٹھتے، وہ انہیں وضو
سکھاتی، سورۃ الفاتحہ سنا کر۔ اس کی جذباتی تنہائی
نے شہر کے دل میں ایک نیا دھڑکنا چھوڑ دیا۔
مافیا کا آخری سردار جیل میں مر گیا، اس کے منہ سے
نکلا: "ایک لڑکی نے ہمیں خون سے ہرا دیا"
;۔ لاہور
کی سڑکیں اب اس کی تنہائی کی گواہی دیتی تھیں — خا
موش، مگر زندہ۔


