سال 1952، کراچی کے ایک ہوائی اڈے سے نکلتا ہوا گا
ڑی کا شناختی کارڈ: "فیضان بن سعید، سیاسی پناہ گز
ین، فوجی خدمات کے تحت"۔
گاڑی چلنے لگی تو دوسرے صدر میں بیٹھا ایک چھوٹا س
ا بچہ، جس کی چمڑی پر "ابوالفضل" لکھا ت
ھا، ساتھ ہ
ی کوئی پرانا سونا کا چمڑے کا گھونگھٹ بھی لٹک رہا
تھا — جو برسوں قبل ہری پور کے حویلی میں ایک نام
علوم سردار کے بچے کو دیا گیا تھا۔
بیرون ملک مقیم فیضان نے 1947 کے بعد لاہور سے چھو
ڑ دیا تھا، لیکن جب 1953 میں وہ واپس آیا، تو ہری
پور کے قبائلی سردار سعید خان کے گھر میں چھوٹا سا
بچہ ہوتے ہوئے ایک ناجائز اولاد کے طور پر چھپا ہ
وا تھا — وہی جس کے ماں باپ کو 1947 کی خونین ہجرت
میں الگ کر دیا گیا تھا۔
عصرِ حاضر کے نظام میں ہر شخص کو ایک "مردانہ
" ثبت
کرنے کا قانون ہے: نہ صرف نام، بلکہ خاندان کا کی
فیت، متعلقہ گاؤں، اور کسی مرد کی تصدیق۔ اس قاعدے
کے تحت، ایک ناجائز بچہ کو ہر حقوق سے محروم رہنا
ہے — مفت کھانا، ہسپتال، تعلیم، اور اب تک کی گول
یاں بھی نہیں ملیں گی۔
جب فیضان نے اپنے نوجوان بیٹے کو دیکھا، تو ہری پو
ر کی حکومت کے ریکارڈز میں اس کا نام نہیں تھا۔ صر
ف ایک فائل، جس پر "غیرقانونی وراثت" لک
ھا تھا، او
ر ایک جنگلی کنگری، جس پر ایک تاریخ کا ٹیگ لگا تھ
ا: "1948، 17 جولائی، چھوٹی دیوار کے پیچھے"۔
اگلے دن، سعید خان کے گھر کے اندر ہری پور کے فوجی
افسر نے ایک بیمار بچے کو پکڑ لیا — کیونکہ وہ "م
ردانہ" ثبت نہیں تھا، اور اس کے ساتھ کوئی سردار ن
ہیں تھا جو اس کی حفاظت کرے۔ گھر کے سردار نے اپنی
دوستی کے لیے بچے کو گولی مار دی — کیونکہ "حیثیت
ہی زندگی ہے"، اور اس کی موجودگی نے اس کے گھر کے
نظم و نسق کو دریافت کردیا تھا۔
فیضان نے دیکھا کہ بچے کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چ
مڑے کا گھونگھٹ تھا — جس پر ایک نقش تھا: "میں اسے
چھوڑ کر گیا تھا، لیکن تم نے اسے لوٹ لیا"۔ وہ گھ
ر کے اندر داخل ہوا، اور ایک گھڑی کے نیچے چھوٹی س
ی تحریر پڑی: "تمہاری حیثیت میری حیثیت ہے"۔
جس دن فیضان نے اپنے بیٹے کو گود میں لیا، وہ ہری
پور کے ایک قدیم دیہاتی ہوائی اڈے سے ایک میٹرک ٹی
کسی میں بیٹھا — اور چھوٹا سا بچہ اس کے کندھے پر
سو رہا تھا۔
کیونکہ اب ہری پور کی طاقتیں ٹوٹ چکی تھیں، اور عص
رِ حاضر کے نظام نے ہر مردانہ کو سچائی سے روک لیا
تھا — لیکن یہاں ایک بچہ تھا، جس کی تناؤ زدہ نفس
یت نے اس کی جان بچا لی تھی۔


