لاہور کی ایک حویلی، تقسیمِ ہند کے بعد کے مہینوں

میں خالی پڑی تھی۔ مالک فرار ہو چکے تھے، رہائشیوں

کی جگہ نقل مکانی کرنے والوں کا شور تھا۔ حنا، اک

یلی نوکرانی، وہاں رہنے والے سابق فوجی جوان کے خا

ندان کی طرف سے کام کرتی تھی۔ اس کا وجود قانون تھ

ا: کوئی بھی غیر متعلقہ شخص حویلی میں داخل نہیں ہ

و سکتا تھا، نہ ہی کوئی پرانا مالک واپس آ سکتا تھ

ا — تقسیم کا نظام اب زمین کے مالکانی حق کو خون س

ے لکھتا تھا، نہ کہ کاغذ سے۔

حنا کو صبح کی چائے میں دودھ کی کمی پر ڈانٹ پڑی۔

اس نے چولہے کے پاس ایک پرانی فوجی یونیفارم دیکھی

، جس کے کندھے پر چھرا لگا تھا۔ وہ جوتا تھا جو جو

ان نے آخری بار پہنا تھا، جب اس نے لوٹنے والوں کو

روکنے کے لیے دروازہ بند کیا تھا۔ اس کے بعد وہ خ

اموش ہو گیا تھا۔ حنا نے اس کپڑے کو دھویا، سینا،

اور برآمدے میں لٹکا دیا۔ اس حرکت نے مردانہ نظام

کو چیلنج کیا: عورت نے مرد کی علامت کو صاف کر کے

دوبارہ نمایاں کیا۔

دوسرے دن، حنا نے دونوں خاندانوں کے نشانات ڈھونڈے

: ایک دیوار کے پیچھے چھپا ہوا خط، جس میں ایک ماں

نے دوسری ماں کو "بیٹے کی جان" بچانے کی

التجا کی

تھی۔ تقسیم کے وقت دونوں فوجی ایک دوسرے کے ساتھ

لڑے تھے۔ اب ان کے گھر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے تھے،

مگر دروازوں پر تالے تھے۔ حنا نے خط دونوں گھروں

کے دروازوں پر لگا دیا۔

رات کو، دونوں بوڑھی عورتیں ایک دوسرے کے سامنے کھ

ڑی ہوئیں۔ کوئی بات نہیں ہوئی۔ حنا نے دونوں کے ہا

تھ میں چائے کے کپ دیے، اور اپنی ساڑی کا ایک کنار

ہ دونوں کے درمیان زمین پر بچھا دیا — جیسے وقفہ گ

اہ کا نشان۔ دونوں نے اس پر قدم رکھا۔ اسی رات، دو

نوں خاندانوں کے مرد باہر آئے، چراغاں کیا، اور ای

ک دوسرے کے گھروں کے تالے توڑ دیے۔

حنا نے اگلے دن فوجی کی یونیفارم کو ایک ننھے بچے

کے کمرے میں رکھ دیا، جو ابھی چلنا سیکھ رہا تھا۔

اس کے قدموں نے اس پر پہلا نشان چھوڑا۔ تقسیم کے ب

عد پہلی بار، ایک نئی نسل نے اس زمین پر قدم رکھا

جہاں خون نہیں، بلکہ صلح کی یاد تھی۔

حویلی کا دروازہ کھلا رہا۔