حُریت بیگم کی لاوارث حویلی لاہور کے باہر میدانوں
میں تنہا کھڑی تھی، جس کے دروازے 1947 کی تقسیم ک
ے بعد سے مقفل تھے۔ برطانوی ریلوے کا نقشہ بدلنے س
ے گاؤں کا راستہ کٹ گیا، اور حویلی کا واحد داخلی
راستہ غیرقانونی قرار پایا، جس نے زمین کے قانون م
یں انقلاب برپا کر دیا — اب صرف "مقامی حکومت کی م
نظور شدہ سڑک" والا مالک حقِ ملکیت لے سکتا تھا۔
مردانہ نظام نے فیصلہ کن دستاویزات ضائع کر دیں، ا
ور حُریت کے بھائی، جنہوں نے فوج میں خدمات انجام
دیں، نے چار بھائیوں کے ذریعے زمین کا نام اپنے نا
م پر کروایا، عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کے
رواج کو طاقت بخشی۔ حُریت کی بیٹی، معصوم، جو بچپن
میں لاہور کے قافلے میں گم ہو گئی تھی، دس سال بع
د امرتسر سے واپس آئی، ہاتھ میں ماں کی دستخط والی
وصیت کا ٹکڑا تھا، جسے برطانوی کمشنر نے رجسٹر کی
ا تھا۔
خواتین کی آزادی کا عمل شروع ہوا جب معصوم نے تحصی
لدار کے دفتر میں وصیت جمع کروائی، قانون کی نئی ش
ق کے تحت، جس میں "غیرمقامی شہری بھی اپنی ماں کے
ذریعے زمین کا دعویٰ کر سکتا ہے" شامل تھا — تقسیم
نے دستاویزی نظام کو اس حد تک بگاڑا تھا کہ مرکزی
ریکارڈ غائب تھے، اور ہر فرد کو ذاتی ثبوت پیش کر
نا پڑتا۔
بدلہ لینے والا ہیرو بنی معصوم، جب اس نے اپنے مچھ
رے چچا کے گھر میں چھپے ہوئے زرعی ریکارڈز چرائے،
جنہوں نے بتایا کہ اصل مالک حُریت تھی۔ اس نے گاؤں
کی مسجد کے باہر قانونی نوٹس چسپاں کیا، اور جلسے
میں بزرگوں کو وصیت کی عکسی نقل دکھائی۔
وراثت کا جھگڑا عدالت تک پہنچا، جہاں جج نے فیصلہ
سنایا: "تقسیم کے بعد کوئی ریکارڈ مکمل نہیں، لیکن
انصاف مکمل ہونا چاہیے۔" زمین حُریت کی بیٹی کو م
نتقل ہوئی، اور چاروں بھائیوں کو جرمانہ ہوا، جس ن
ے مردانہ وراثت کے اندرونی نظام کو توڑ دیا۔
متحرک ماحول میں، معصوم نے حویلی کو کھولا، اسے خو
اتین کے تعلیمی مرکز میں بدل دیا، جہاں تقسیم کے م
تاثرین کی بیٹیاں لکھنا پڑھنا سیکھیں۔ ایک برس بعد
، ریلوے کا نیا نقشہ منظور ہوا، جس میں حویلی کا ر
استہ دوبارہ کھول دیا گیا، اور گاؤں کو نئی سڑک مل
نے لگی، جس کے مالک معصوم تھی۔
حویلی کی چھت پر ایک پرانی گھنٹی تھی، جسے معصوم ن
ے پہلی بار 1965 میں بجائی، جب آخری طالبہ نے گریج
ویشن کی۔ وہ آواز میدانوں میں گونجی، اور دور تک س
نی گئی۔


