1948 کے موسمِ برسات میں لاہور کی سرحدی گلیوں میں
، انسپکٹر ظفر عالم، مردانہ کے محلے کا واحد بااخت
یار پولیس افسر، ایک ویران صوفی درگاہ کے پیچھے ای
ک حویلی کا کنٹرول سنبھالتا ہے۔ حکومت نے تقسیم ہن
د کے بعد خالی ہونے والی تمام جائیدادوں پر فوجی ا
نتظامی حکم نافذ کر دیا تھا، لیکن ظفر نے "سرکاری
ضبط" کے نام پر اپنے نام کاغذات منتقل کروا لیے، ن
ظامِ رجسٹری کو مروّج فراڈ کے ذریعے بدل کر دنیا ک
ے طریقۂ کار کو ہی تبدیل کر دیا۔
حویلی کے تہ خانے میں، اسے ایک سرخ صندوق ملتا ہے
جس پر نام لکھا ہے: "سید احمد بریلوی کا آخری خطِ
مبارک"۔ دستاویزات عوام کے نام ہیں، جن میں ایک نئ
ے اسلامی نظامِ ریاست کی بنیاد کا ذکر ہے، جسے بری
لوی نے تقسیم سے قبل چھپایا تھا۔ انہیں شائع کرنے
کا حق صرف ایک "روحانی وارث" کو ہوتا ہے
، اور کسی
غیر متعلق شخص کا ہاتھ لگنا مذہبی تقدس کی خلاف ور
زی سمجھا جاتا ہے۔ ظفر نے دستاویزات کو لاہور پریس
میں چھپوایا، اور اپنے نام کو "قومی بیداری کا نب
ی" قرار دیا گیا۔
شہرت کے نشے نے اس کی شخصیت بدل دی۔ وہ اب سرکاری
تقریبات میں بولنے لگا، سکولوں میں خطابات دیے، او
ر اپنی تصویریں پوسٹروں پر چھپوائیں۔ لوگ اُسے "حق
کا ستون" کہنے لگے۔ لیکن جب اصل وارث، ایک بوڑھا
فقیر جو درگاہ کے پاس رہتا تھا، نے خط کی نقل دکھا
کر احتجاج کیا، تو ظفر نے اُسے گرفتار کروا دیا،
"جنون" کی دفعہ کے تحت اسے دیوانہ خانے
میں بند کر
وا دیا۔
حالات تناؤ زدہ ہو گئے۔ بارش کے موسم میں درگاہ کی
دیواریں ٹوٹنے لگیں، حویلی کے اندر سے غیر معمولی
ہوا کے دباؤ کی آوازیں آنے لگیں، اور مقامی لوگوں
نے کہنا شروع کر دیا کہ "توہینِ تقدس" ک
ی وجہ سے
زمین غصے میں ہے۔ ظفر کے گھر والوں نے اُسے چھوڑ د
یا، بیوی نے بچوں کو لے کر گھر چھوڑ دیا، کیونکہ ا
یک رات اُس کے بیڈروم کی دیوار پر خون سے لکھا تھا
: "تم نے دستخط نہیں کیے، تم نے نام چُرا لیا"۔
23 مارچ 1950 کو، جب ظفر کو "قومی خدمات"
; کے لیے س
رکاری اعزاز دیا جانا تھا، حویلی کے تہ خانے میں ز
مین دھنس گئی۔ وہاں موجود تمام کاپیاں، پرنٹ، اور
اصل دستاویزات گِر کر ایک زیر زمین ندی میں بہہ گئ
یں۔ اسی دن، اصل فقیر دیوانہ خانے سے فرار ہو گیا،
اور درگاہ کے صحن میں بیٹھ کر اصل خط پڑھنا شروع
کر دیا۔ ہزاروں لوگ جمع ہو گئے۔
ظفر نے اعزازی تقریب چھوڑ کر حویلی کی جانب رخ کیا
، لیکن راستے میں ایک بس اس سے ٹکرا گئی۔ ہسپتال م
یں، بے ہوشی کی حالت میں، اُس کے منہ سے صرف ایک ج
ملہ نکلا: "میں نے نہیں چُرایا…
میں نے تو بچایا تھا"۔ اگلے دن، اس کا نام تمام اخ
بارات کی سرخیوں سے غائب تھا۔
حویلی کو محکمہ اوقاف نے سنبھال لیا، اور اس کی دی
واروں پر اب صرف ایک جملہ کندہ ہے: "جو تقدس کو ہا
تھ لگائے، اُس کی شہرت مٹی میں مل جاتی ہے"۔


