لاہور کی ویران حویلی میں، 1953 کے سرد موسم میں،

نور جہاں کو سسرال لایا گیا، ایک انگریزی تعلیم یا

فتہ دلہن جس کے ماں باپ لاہور چھوڑ کر لندن چلے گئ

ے تھے۔ وہ تقسیم کے فوراً بعد کے قانونِ وطن واپسی

کے تحت واپس بلائی گئی تھی — ایک حکومتی حکم جس ن

ے تمام غیر مقیم پاکستانی شہریوں کو وطن لوٹنے پر

مجبور کیا، ورنہ نقصانِ شہریت کا سامنا۔

حویلی کے دروازوں کے پیچھے، مردانہ نظام کی عملدار

ی تھی: تمام فیصلے صرف مرد افراد کرتے، عورتوں کا

نام باہر نہیں لیا جاتا تھا، خطوط پر بھی "صاحبزاد

ی" کی جگہ "خاندان کی بیٹی" لکھا ج

اتا۔ نور جہاں ک

و اندرون حرم میں قید کر دیا گیا، اس کی کتابیں ضب

ط کر لی گئیں، اس کے خطوط کی جانچ پڑتال ہوتی، اس

کی تصاویر گھر کے مرد افسروں کے ذریعے منظور ہوتیں

۔

جاگیردارانہ ظلم کا عمل یہ تھا: زمین کے تمام کاشت

کاروں کو اپنی بیٹیاں حویلی میں نوکرانی کے طور پر

بھیجنی تھیں، ورنہ کرایہ دوگنا ہو جاتا۔ ان لڑکیو

ں کو صبح چار بجے اُٹھایا جاتا، دن بھر کام کروایا

جاتا، رات کو ان کے کمرے کی چابیاں سسرالی مرد رک

ھ لیتے۔ نور جہاں نے ایک دن ایک نوکرانی کو روتے د

یکھا، جس کی انگلی توڑ دی گئی تھی کیونکہ اس نے کھ

انا ٹھنڈا پیش کیا تھا۔

نور جہاں نے بیرون ملک واپسی کی درخواست دائر کی،

لیکن اس وقت کا قانون شہریت کسی شہری کو دوبارہ بی

رون ملک جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا اگر وہ ایک ب

ار واپس آ چکا ہو — یہ حکومتی پالیسی "وطن کی تعمی

ر" کے نام پر بنائی گئی تھی۔ اس کی درخواست مسترد

ہوئی، ساتھ نوٹ تھا: "آپ کا وجود یہاں ضروری

ہے"۔

وہ ایک پرانی بسویلائن کے ذریعے بحری جہاز تک پہنچ

نے کی کوشش کرتی ہے، لاہور سے کراچی کے لیے چھپ کر

سفر کرتی ہے۔ راستے میں، ایک چیک پوسٹ پر اس کا ش

ناختی کارڈ چیک ہوتا ہے، اور اس کی حرکتِ غلط ثابت

ہوتی ہے۔ پولیس اسے واپس لاہور بھیج دیتی ہے، اور

اس کے خلاف "غداریِ وطن" کا الزام لگتا

ہے — ایک

نیا قانون جس کے تحت کوئی بھی شہری جو بیرون ملک ج

انے کی کوشش کرے، اس کی تمام جائیداد ضبط ہو جاتی۔

حویلی میں واپسی پر، اس کے سسر نے تمام خواتین کو

حرم میں اکٹھا کیا اور اعلان کیا کہ نور جہاں اب "

مذہبی طور پر ناقص" ہے، اس لیے اسے حرم سے الگ کر

دیا جاتا ہے۔ اسے ایک پرانی گودام جیسے کمرے میں ر

کھا جاتا ہے، جہاں صرف ایک چراغ اور ایک دیوار پر

لگی ہوئی تصویر باقی رہتی ہے — لندن کے ایک گھر کی

، جس کے باہر اس کی ماں ہنس رہی تھی۔

صبح کو، ایک چھوٹی سی لڑکی اس کے کمرے کے دروازے پ

ر روٹی کا تھال رکھتی ہے۔ نور جہاں کھڑکی سے باہر

دیکھتی ہے: حویلی کے صحن میں مردوں کا ایک جلسہ ہو

رہا ہے، جہاں اس کے شوہر کو ایک نئی دلہن کے ساتھ

پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ کمرے میں بیٹھی رہتی ہے، ا

پنی انگلیوں سے دیوار پر لکیریں کھینچتی ہے، اور آ

خری بار وہ تصویر دیکھتی ہے — لیکن اب اس پر دھول

جم چکی ہوتی ہے۔