1947 کے تقسیم کے فوراً بعد، سندھ کے ایک بڑے گھر
میں نوکرانی عائشہ اپنی زندگی کے آخری چھوٹے لمحات
کو گن رہی تھی۔ وہ اپنے مالکانہ گھر کے لئے 20 سا
ل سے کام کر رہی تھی۔ گھر کے مالک، ممتاز خان، اب
اپنے بھائی کے ساتھ لاہور چلے گئے تھے۔ عائشہ کو ا
پنے بچے، نور، کو ساتھ لے کر چلنے کی اجازت نہیں د
ی گئی۔ نور کے دادا کے قبرستان میں گھس کر روتی رہ
ی۔
عائشہ کی ہمت کو اس وقت ٹوٹا جب اسے بتایا گیا کہ
اس کا بچہ لاہور میں ایک مذہبی تنظیم کے حوالے کر
دیا گیا ہے۔ اس کے گھر والے اسے ہر طرح سے دباؤ دے
رہے تھے۔ عائشہ نے اپنے ایک قدیم دوست، جو اب ایک
معتبر شخص بن چکا تھا، سے مدد کی درخواست کی۔
دروازے پر ایک دن گولی چلائی گئی۔ عائشہ کے دوست ک
ی گردن کاٹ دی گئی۔ اس کے بعد، عائشہ نے اپنے بچے
کو نکالنے کے لئے ہر طرح کے ذرائع استعمال کیے۔ وہ
ایک چھوٹے سے ہوٹل میں رہنے لگی۔ ہوٹل کے مالک، ا
یک سابق فوجی آفیسر، نے اسے مدد کی۔
عائشہ کے ہاتھ میں ایک خط تھا۔ اس خط میں اسے بتای
ا گیا کہ اس کا بچہ ایک گرینڈ مسجد میں تعلیم حاصل
کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، عائشہ نے اپنی آزادی کی
کوشش کی۔ ہوٹل میں اس کے ساتھ ایک دوسری نوکرانی،
فاطمہ، بھی شامل ہو گئی۔ دونوں نے ایک جماعت بنائ
ی۔
آخر کار، عائشہ نے اپنے بچے کو نکال لیا۔ اس کے سا
تھ ایک چھوٹا سا گھر بنایا گیا۔ 1950 کی دہائی میں
، اس گھر کو ایک معروف ادبی مراکز کے طور پر استعم
ال کیا گیا۔ عائشہ نے اپنی کہانی لکھی، جس میں پیا
ر اور نفرت کی جنگ کی تصویر بنی۔
عائشہ کے دل میں اب صرف ایک چیز رہ گئی۔ انصاف۔ او
ر اس چیز کی گواہی، اس کے لکھے ہوئے الفاظ میں تھی
۔


