1947 کے فیصلے کے بعد، لاہور کی ایک حویلی میں سرد
ار حسن کی بیٹی رابعہ کی شادی گھر کے پڑائو کے ذمہ
داروں کے حوالے کر دی گئی۔ اس وقت سماجی اقدار او
ر مذہبی قوانین نے ایک عورت کی زندگی کو کسی بھی ط
رح کی آزادی سے محروم کر دیا تھا۔ رابعہ کے والد ا
یک معزز مذہبی شخصیت تھے، جو اپنی بیٹی کی شادی کو
ایک "غیرت" کا معاملہ سمجھتے تھے۔
رات کے ایک ہفتے میں، ایک نوجوان افسر احمد نے راب
عہ کے گھر کا دورہ کیا۔ اس کی خدمات کے باوجود، اس
کی حاضری سے گھر کے لوگوں میں تشویش پیدا ہو گئی۔
رابعہ کی ماں، سردار بی بی، نے اپنی بیٹی کے لیے
ایک متبادل تلاш کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ایک غیر
مسلم چھوٹے چھوٹے ہندو کاروباری کے ساتھ ایک گھر
کی تجویز پیش کی۔
غیرت کے نام پر، سردار بی بی نے اپنی بیٹی کے ہاتھ
وں سے اس گھر کی بھی ہٹا دی۔ رابعہ کو جبری طور پر
اس چھوٹے ہندو کے ساتھ شادی کروادی گئی۔ اس موقع
پر، اس کی ماں نے اپنی بیٹی کی بجائے اپنے اپنے مذ
اق کو اپنی ہمت کے ساتھ بچایا۔
تقسیم کے بعد کے سماجی نظام نے اس عورت کی تمام مح
رمات کو ایک ایسے عالمی عمل میں بدل دیا جس کی وجہ
سے اس کی زندگی ایک سیاسی تھرلر بن گئی۔ رابعہ کی
شادی کے بعد، اس کی ماں کو اپنے گھر کی سماجی حیث
یت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی نفسیاتی سانس کو ب
ھی دبانا پڑا۔
سردار بی بی نے آخرکار اپنی بیٹی کی اس گھر کی آگ
کو اپنی موت کے ساتھ بجھا دیا۔ اس کی لاش کو گھر ک
ے چبوترے پر رکھ دیا گیا، جہاں اس کی سب سے بڑی خو
اہش تھی کہ اس کی بیٹی کو اس کے ساتھ ہی رہے۔
رابعہ کی شادی کے بعد، اس کی ماں کے انتقال کے بعد
، اس کا گھر ایک خاندانی صلح کے نام پر ایک نئی سم
اجی تنظیم کے قیام کا مرکز بن گیا۔ اس کے بیٹے اور
دیگر افراد نے اپنی ماں کے واقعات کو ایک ادبی فک
شن کے طور پر اپنی کتابوں میں بیان کیا۔ اس طرح، ا
س کی ماں کی محرمات نے ایک نئی تاریخ کے قیام کا ر
استہ روشن کر دیا۔


