1947 کی بے ہنگامہ رات، کراچی کے ایک انتہائی اثرو
رسوخ والے محلے میں، مردانہ نام کا گینگ لیڈر اپنے
چھوٹے بھائی کے ساتھ سڑک پر تازہ خون کے گلے لٹکے
دیکھتا ہے۔ وہ اپنی ماں کی آخری آواز سن رہا ہے ج
و کہ "تم اپنے دل کی تلاش کرو"۔ اس وقت
اس کی زندگ
ی میں صوفیانہ عشق کا مفہوم ایک نیا معنی حاصل کرت
ا ہے۔
مردانہ کی گینگ ایک قانون کی کمزوری کی ترجمانی کر
تی ہے۔ ان کے قواعد میں لڑکیوں کی شادیاں، فوجی ذم
ہ داریاں، اور سرحد پار جانے کی ضرورت ایک اجنبی ق
انون کے طور پر درج ہے۔ اس کا گھر تقسیم ہند کے بع
د دو حصوں میں بٹ گیا۔ اس کی بہن، امانت، اپنی شاد
ی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ اس کا شوہر، ایک بے ب
اک چائلڈ بریگزر، اسے اپنے گھر سے نکال دیتا ہے۔
مردانہ کو ایک بار پھر اپنے بھائی کے ساتھ سرحد پا
ر جانا پڑتا ہے۔ وہ اپنی گینگ کے ساتھ ایک ہوائی ج
ہاز پر سفر کرتا ہے، جو ایک غیر قانونی ہوائی اڈے
پر روکا جاتا ہے۔ وہاں ایک صوفی، جو اس کی گزشتہ س
الوں کی دوستی کے ساتھ ہے، اسے ایک انجمن کے نمائن
دے کے سامنے لاتا ہے۔ اس انجمن کا مقصد اسلامی تعل
قات کی حفاظت اور انسانی عشق کی نشاندہی کرنا ہے۔
سرحد پار جانے کے بعد، مردانہ اپنی بہن کو ایک نئی
زندگی کی دعوت دیتا ہے۔ وہ ایک سیاسی تھرلر کے اث
ر میں ایک نئی جگہ پر اپنی فیملی کو لاکر رکھتا ہے
۔ اس کی گینگ اس وقت تک کمزور ہو جاتی ہے، جب تک و
ہ اپنے نئے دوستوں کے ساتھ ایک ہوائی جہاز پر اترت
ا ہے۔ اس کا ہر قدم ایک نیا عشق کی تلاش ہوتا ہے۔
اس کے انجام میں، مردانہ اپنی گینگ کے ساتھ ایک نئ
ی جگہ پر ایک نئی اتحادی قیادت قائم کرتا ہے۔ وہ ا
پنی بہن کے ساتھ ایک نئی فیملی بناتا ہے۔ اس کی زن
دگی میں صوفیانہ عشق کا مطلب ایک ایسا احساس ہے جو
اس کے دل کو ایک نئی روح کے ساتھ بدل دیتا ہے۔
سیاہ چاند کے نیچے، مردانہ کی گینگ ایک نئی رات کی
تاریخ لکھتی ہے۔ اس کی ہر حرکت، اس کی ہر بات، ای
ک نیا عشق کی تلاش ہوتی ہے۔ اس کا متحرک اسلوب زند
گی اس کی گینگ کو ایک نئی امید کے ساتھ گھر لاتا ہ
ے۔


