1947 کے بعد کے سال۔ تقسیم ہند کے زخموں پر ابھی پ
َٹّی بندی ہو رہی تھی کہ لاہور کے محلے میں ایک قد
یم حویلی میں بجلی کے تار کھینچ دیے گئے۔ یہ تار ن
ہ صرف روشنی لائے بلکہ وہاں کی روحانی تقدس کو بھی
تقسیم کر دیا۔ تقدس کا نظام ٹوٹا: جہاں ایک وقت ذ
کر و فکر کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب میٹر کے
ٹک ٹک کی آواز تھی۔ بجلی کا بل اب روحانیت کا بل ب
ن چکا تھا۔
حاجی صاحب، ایک صوفی بزرگ، جن کے در پر سالہا سال
سے غریب، بیمار اور مظلوم آتے تھے، اب خود ایک ادا
رے کے سامنے بے بس تھے۔ ان کی حویلی، جو وقف کی ہو
ئی زمین پر تعمیر ہوئی تھی، اب بجلی کی کمپنی کے ق
انون کے تحت "غیر قانونی متصل" قرار دی
گئی۔ انہیں
یا تو تار کاٹ دینے تھے، یا سترہ ہزار روپے کا بل
ادا کرنا تھا — رقم اس دور کے لحاظ سے اتنی بھاری
تھی جتنی ایک فصل کی پیداوار۔
زنانہ محراب میں بیٹھی بیوہ بیٹی، ثانیہ، جس کے شو
ہر کو تقسیم کے فسادات میں کھو دیا تھا، اب اس قرض
کے بوجھ تلے دبی تھی۔ اس کا گھر، جو حویلی کے سائ
ے میں کچرا جھونپڑی تھا، اب بجلی کے بل کی گرفت می
ں تھا۔ کمپنی کے افسر نے ہفتے کے آخر تک بل ادا نہ
کرنے پر تار کاٹنے کا حکم دے دیا۔ اگر تار گئے، ت
و نہ صرف حویلی اندھیرے میں ڈوب جائے گی، بلکہ صوف
ی بزرگ کی دعا گاہ بھی ختم ہو جائے گی۔
ثانیہ نے اپنی ماں کی چاندی کی بالیاں نکالیں — وا
حد ورثہ۔ لاہور کے بازار میں انہیں بیچا، مگر رقم
نصف تھی۔ وہ رات بھر جاگی۔ صبح، اس نے ایک فیصلہ ک
یا۔ اس نے حویلی کے صحن میں ایک چھوٹا سا جال بچھا
یا — ایک مینڈھا، چراغ، اور ایک تار جو براہ راست
بجلی کے پول سے جڑا تھا۔ یہ تار اب دوسرے گھروں می
ں بھی جانے لگا، ہر گھر سے پانچ روپے ماہانہ لینے
کا انتظام۔ یہ غیر قانونی تھا، مگر ضرورت تھی۔
اداسی اب عمل میں بدل چکی تھی۔ لوگوں نے پانچ روپے
دیے۔ بجلی آ گئی۔ حاجی صاحب کی دعا گاہ میں چراغ
جل اٹھے۔ مگر ایک رات، بارش ہوئی۔ تار گیلا ہوا۔ ک
رنٹ ایک بچے تک پہنچ گیا۔ وہ بچہ بچ گیا، مگر قانو
ن نے حرکت کی۔
مقامی پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ مگر جب وہ حویلی
پہنچے، تو دیکھا کہ تمام گھروں کے چراغ جل رہے ہی
ں۔ ایک بزرگ نے کہا: "یہ تار تو کمپنی کا ہے، مگر
روشنی اللہ کی طرف سے ہے۔" پولیس والے خاموش ہو گئ
ے۔ انہوں نے کاغذات واپس لیے، مگر شرط رکھی: "اگلے
مہینے تک، تمہیں سرکاری میٹر لگانا ہو گا۔"
ثانیہ نے ایک بینک سے قرض لیا — اب یہ قرض اس کا ذ
اتی بوجھ تھا۔ مگر اب یہ قرض بجلی کے بل کے بجائے،
ایک منظم نظام کی بنیاد بنا۔ ایک سال بعد، لاہور
کے دس پسماندہ محلوں میں "محراب نیٹ ورک"
; وجود میں
آ چکا تھا — غریبوں کی بجلی، غریبوں کے ذریعے چلت
ی۔
حاجی صاحب کی وفات ایک سرد رات ہوئی۔ مگر ان کی دع
ا گاہ میں چراغ بجھا نہیں۔ ان کی آخری سانس کے وقت
، بجلی کا تار، جو اب سرکاری میٹر سے جڑ چکا تھا،
ہر گھر میں روشن تھا۔
دنیا کا طریقہ بدل چکا تھا: ریاست کی روشنی اب صرف
سڑکوں تک محدود نہیں تھی۔ غریب عورت کے فیصلے نے
نہ صرف قرض چُکایا، بلکہ ریاست کے نظام میں ایک دا
ئمی دراڑ ڈال دی — جہاں روحانیت کی حویلی، بجلی کی
غیر رسمی معیشت کا مرکز بن گئی۔
اداسی باقی تھی — مگر اب وہ اداسی، حرکت میں تبدیل
ہو چکی تھی۔


