سردار عبدالرحمٰن چودھری کو 1952 میں گرفتار کر لی
ا گیا۔ اس کی قبیلہ کی ملکیت کی گدھے کی طرح جھونک
لی گئی، اس کی بیوی کو شہر کے گوتوں میں دفن کر د
یا گیا۔ وہ جیل میں اپنی ہمسفر سے ملنے لگا، جو ای
ک صوفی تھی، جس کے ہاتھوں میں سیاہ گدھا تھا۔ ان ک
ے درمیان ایک عشق پیدا ہوا، جو اصل میں ایک سوال ت
ھا: کیا اللہ کی محبت انسانی محبت سے بہتر ہے؟
جیل کے چھوٹے دروازے سے نکلنے کا ایک قانون بنایا
گیا۔ جو شخص چھوٹے دروازے سے باہر آ جائے، اس کی ت
مام تر زمین، مال، اور اولاد اغراض کے لیے حکومت ک
ے ہاتھ میں ہو جائے گی۔ عبدالرحمٰن کو چھوٹا درواز
ہ کھولنے کی اجازت دی گئی، لیکن اس کی ہمسفر کو چھ
وڑنا پڑا۔
وہ دروازہ کھولنے کے بعد گلی میں گھومتا رہا، لیکن
اس کی ہمسفر کو کہیں نہیں دیکھا۔ جب وہ واپس گیا،
تو اس کی قبیلہ کی زمین ایک نئی فوجی چوکی میں تب
دیل ہو چکی تھی۔ اس کی بیوی کا لاشہ ایک پتلا کوٹھ
ا میں ہلاک ہو چکا تھا۔
اب وہ ایک نئے عصر میں زندہ ہے، لیکن اس کی زندگی
ایک قید کی طرح ہے۔ جب وہ چھوٹا دروازہ کھولتا ہے،
تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اور جب وہ اس کے
بارے میں سوچتا ہے، تو اس کی ہمسفر کی آواز اس کے
ذہن میں گونجتی ہے۔ "ہم دونوں ہمیشہ ہمیں ہی ہمیش
ہ ہمیں ہی ہمیشہ ہمیں ہی ہمیشہ..."


