پنجاب کے ایک دور دراز گاؤں میں، ایک صوفی بزرگ کی
حویلی دہشتِ فقر اور روحانی سکون دونوں کی علامت
تھی۔ وہ مرد خاموشی میں اللہ کی عبادت کرتا، مگر ا
س کی موجودگی گاؤں کے نظامِ وفاق پر حاوی تھی۔ کوئ
ی جھگڑا، کوئی شادی، کوئی تقسیم وراثت بغیر اس کی
منظوری کے مکمل نہ ہوتی۔ اس کی پوتی، زینب، بچپن س
ے ہی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی
— لوگوں کے دلوں میں چھپے جذبات، ان کے گناہ، ان
کی بے چینی۔
جب تقسیمِ ہند کے بعد 1947 میں لاہور کے کچلے ہوئے
محلوں میں نئے مہاجرین آباد ہوئے، تو زمین کے نظا
م میں تبدیلی آئی۔ صوفی بزرگ کی زمین کو "عوامی تر
قی" کے نام پر حکومت نے ضبط کر لیا۔ قانون کا نیا
نظام — عصرِ حاضر کا میکانزم — رسم و رواج کی جگہ
لے گیا۔ زینب کو اپنے چچا کے ساتھ لاہور منتقل ہون
ا پڑا، جو کہ ایک قدیم قبیلے کا سردار تھا اور اب
بھی وفاداری کے نام پر تمام رشتے بنانے اور توڑنے
کا حق جانتا تھا۔
لاہور کی گلیاں زینب کے لیے اجنبی تھیں۔ مہاجرین ک
ی بستیوں میں، قبائلی وفاداری اب بھی فیصلہ کرتی ت
ھی کہ کون کام پائے، کون شادی کرے، کون مرے۔ زینب
کو محسوس ہوا کہ اس کی بصیرت — زنانہ صلاحیت — اب
اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ لوگ اسے "جادو
گرنی"
سمجھنے لگے، کیونکہ وہ چپ چاپ ان کے دلوں کی بات
جانتی تھی۔
چچا نے اس کی شادی ایک طاقتور قبیلے کے لڑکے سے طے
کی، تاکہ نئی دنیا میں اثر و رسوخ بحال کیا جا سک
ے۔ زینب نے مخالفت نہیں کی، مگر اس کی خاموشی کو و
فاداری سمجھ لیا گیا۔ شادی سے قبل، اس نے اپنی ماں
کی طرف سے دیا گیا صوفی بزرگ کا دستار چھپا لیا —
ایک سفید دوپٹہ جس پر قدیم نسخہ لکھا تھا۔
شادی کی رات، جب لڑکا اس کے کمرے میں داخل ہوا، تو
زینب نے دستار اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس لمحے، اسے
احساس ہوا کہ وہ اب صرف ایک جسم نہیں — بلکہ ایک ن
سل کی تکلیف، ایک قوم کا درد، ایک عورت کا وجود ہے
۔ اس نے دستار کو دیوار پر ٹانگ دیا، جیسے اپنی رو
ح کو قربان گاہ پر رکھ دیا ہو۔
صبح ہوئی تو لڑکا غائب تھا۔ گھر والوں نے تلاش شرو
ع کی، مگر اس کا جسم کالعدم قبرستان میں ملا، آنکھ
یں کھلی ہوئی تھیں، منہ پر ایک معصوم مسکراہٹ۔ کسی
نے کہا کہ اس نے خودکشی کر لی، کسی نے کہا کہ روح
انی طاقت نے اسے ڈرا دیا۔ قبیلہ نے فیصلہ سنایا: ز
ینب ناپاک ہے، اس کی وجہ سے برکت چلی گئی۔
زینب واپس گاؤں نہیں جا سکی۔ صوفی بزرگ انتقال کر
چکے تھے، حویلی خالی تھی، اور زمین پر سرکاری اسکو
ل بن چکا تھا۔ وہ لاہور کی ایک تاریک گلی میں رہنے
لگی، دستار اب بھی اس کے سر پر تھی۔ لوگ اب بھی آ
تے، اپنے دکھ بتاتے، مگر وہ کبھی جواب نہ دیتی۔
ایک دن، ایک بچی نے اس کے سامنے پانی کا گلاس رکھ
دیا۔ زینب نے اسے دیکھا — اسی طرح کی آنکھیں، اسی
طرح کی خاموشی۔ بچی نے دستار کی طرف دیکھا، پھر سر
جھکا کر چلی گئی۔ زینب نے پہلی بار ایک آنسو بہای
ا۔
اس رات، اس کی لاش گلی میں ملی۔ دستار اس کے سر پر
تھا، ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تصویر — گاؤں کی حویل
ی، جو اب دیوار کے پیچھے چھپی تھی۔
صبح کو، بچی واپس آئی، دستار اٹھا لیا، اور دور سے
ایک عمارت کی طرف چل پڑی — جہاں اسکول کے باہر بو
رڈ لگا تھا: "حکومتِ پاکستان، عصرِ حاضر کی تعمیر
نو"۔


