پیر محمد نثار الدین کی درگاہ کراچی کے پرانے شہر

میں واقع ایک سنگ مرمر کے چبوترے پر قائم تھی، جہا

ں روزانہ صبح سویرے چادر چڑھانے والوں کی قطار لگت

ی۔ ان کی موجودگی خود ایک قانون تھی: بیمار لوٹ کر

اٹھتے، جوڑے ملنے، اور زمین کے تنازعات فیصلہ ہو

جاتے۔ ان کے پاس وہ "نشانِ تقدس" تھا جس

پر عوام ک

ا ایمان لاکھوں کی طرح منتقل ہوتا رہا۔

1998 میں مالی بحران نے ان کے خاندان کو گھیر لیا۔

بیٹے نے لاہور میں تاجر کے ساتھ مشترکہ تجارت کی

تھی، جس میں سرمایہ ضائع ہوا۔ قرض کا بوجھ اتنی حد

تک بڑھ گیا کہ حکومتی بینک نے ان کی حویلی اور در

گاہ کے متصل زمین کی نیلامی کا حکم دے دیا۔ قانون

کے تحت، مذہبی اراضی بھی اب قابلِ فروخت تھیں — عص

رِ حاضر کی نئی معیشت نے مذہبی نظام کو مارکیٹ میں

تبدیل کر دیا تھا۔

پیر صاحب نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے مریدوں

سے کہا کہ اللہ کافی ہے، لیکن بیٹے نے راتوں کو زم

ین کے کاغذات بینک میں جمع کروا دیے۔ ایک صبح، بلڈ

وزر آیا۔ لوگوں نے روکنے کی کوشش کی، لیکن پولیس ن

ے قانون کا حوالہ دیا۔ درگاہ کی دیوار گر گئی، اور

چبوترا بے حرمت ہوا۔ وہ دن، نثار الدین نے اپنا خ

رقہ اتار کر مین ہول میں پھینک دیا۔

اس رات، ان کے تمام مریدوں نے اپنے گھروں میں چراغ

نہیں جلائے۔ کوئی دعا نہیں پڑھی گئی۔ صرف ایک خام

وشی تھی جو پورے محلے میں پھیل گئی۔

دو دن بعد، پیر کی لاش دریائے لیاری کے کنارے ملی۔

ہاتھ میں ایک پتھر تھا، جس پر "میں نے تمہیں چھوڑ

دیا" لکھا تھا۔

حکومت نے زمین کسی پرائیویٹ ڈولپمنٹ کمپنی کو فروخ

ت کر دی، جس نے وہاں شاپنگ مال کی بنیاد رکھ دی۔ ل

یکن مال کبھی مکمل نہ ہوا۔ ہر بار جب کام شروع ہوت

ا، مزدوروں میں بیماری پھیل جاتی، اور رات کو کوئی

نہ کوئی چیز ٹوٹ جاتی۔ آخرکار منصوبہ منسوخ ہو گی

ا۔

آج تک، وہ جگہ ویران ہے۔ بچے وہاں نہیں کھیلتے۔ کو

ئی گزرتا ہے تو سر جھکا کر گزرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ

بارش کی راتوں میں ایک چراغ دکھائی دیتا ہے، اور ہ

وا میں ایک آواز گردش کرتی ہے جو کسی نام کو نہیں

لیتی، صرف ایک سوال ہوتا ہے: "کون سہے گا؟"