1980 کے دہائی میں کراچی کی روشن شاہراہوں اور گھر
یلو فضا کے درمیان، ایک یونیورسٹی کے ایک نوجوان ا
ستاد، رفیق، اپنے بھتیجے کے قتل کے واقعہ کے بعد ا
نتقام کی آگ میں جھلس جاتا ہے۔ اس کا دل اب انتقام
کی خاطر جھلس رہا ہے۔ اس کی والدہ، ایک قدیم خاند
ان کی سربراہ، اسے سیاست کے دائرے میں ڈالنا چاہتی
ہے، جہاں سیاسی قتل کا راز پوشیدہ ہے۔
رفیق کے دل میں صوفیانہ عشق کا احساس اس وقت بیدار
ہوتا ہے جب اسے ایک گمنام مسجد کی سرحد پر ایک غم
گسار صوفی کی بات سننے کا موقع ملتا ہے۔ اس کی نظر
میں صوفی کا جذبہ ایک نئی طاقت بن جاتا ہے۔ اس کے
حوالے سے ایک اخباری رپورٹ سامنے آتی ہے: ایک سیا
سی رہنما کے قتل کے ذمہ دار ایک انتہا پسند تنظیم
ہے۔
رفیق کے دل میں انتقام کی آگ اور صوفیانہ عشق کے د
رمیان تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پران
ا خط ہوتا ہے، جس میں اس کے والد نے اسے سیاسی معا
ملات سے دور رہنے کی ہدایت دی ہوئی ہے۔ لیکن اسے ا
پنے بھتیجے کے قتل کا سچ جاننے کی ضرورت ہے۔
ایک رات، رفیق ایک سیاسی ملاقات کے لیے ایک خاص مق
ام پر جاتا ہے۔ وہاں ایک گھناؤنی سیاسی جنگ کا سام
نا ہوتا ہے۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ کی بھینٹ چ
ڑھ جاتی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں ایک اسلحہ ہوتا ہے۔
اس کی نظر میں ایک شخص ہوتا ہے جسے وہ جانتا ہے۔
اس جنگ کے بعد، رفیق کو ایک نئی حقیقت کا احساس ہو
تا ہے۔ وہ اس سیاسی قتل کا سچ جان لیتا ہے۔ اس کے
دل میں صوفیانہ عشق اور انتقام کی آگ کا میلاپ ہو
جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں ایک نئی زمین پیدا ہوتی
ہے۔ اس کے دل میں امید کی ایک چمک پیدا ہوتی ہے۔
رفیق اب اپنی زندگی کو ایک نئی راہ پر ڈال دیتا ہے
۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ ابھی بھی جل رہی ہے،
لیکن اس کی نظر میں اب ایک نئی سچائی اور امید کی
چمک ہے۔


