عصرِ حاضر میں، ایک خاموش حویلی میں ہر پتھر ایک د
استان کہتا ہے۔ حویلی کی بوڑھی عورت، منیر بibi، ا
پنی مکان کی دیواروں پر لکھی ہوئی قدیم تاریخ کے س
اتھ گزارا کر رہی ہے۔ اس کی بیٹی کا شادی ہو چکا ہ
ے، اور اس کا پوتا، جو یونسی کے یونیورسٹی سے فارغ
التحصیل ہوا، اپنی زندگی کے نئے مفروضوں کے ساتھ
واپس آ گیا۔
زنانہ، جو یونسی کے گھر کا سب سے بڑا غم ہے، اپنے
ماں کے ہاتھوں سے ایک نئی طاقت کی طرح ڈھل رہا ہے۔
منیر بibi کی آنکھوں میں ایک دن روشنی چمکتی ہے۔
وہ اپنی حویلی کے قبرستان کے قریب ایک نئی نماز کی
جگہ بناتی ہے۔ یہ ایک مذہبی تقدس کا عظیم عمل ہے،
اس کا مقصد اپنے گھر کی ذلت کو دور کرنا ہے۔
یونسی اپنی ماں کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہ
ے۔ وہ اپنی اسکول کی دوستوں کے ساتھ لائے ہوئے دوس
رے تہواروں کے رسموں کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس کی
والدہ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی دوسری
ایک چکدار داستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
فلسفیانہ ہواؤں میں، منیر بibi اپنی بیٹی کو ایک ن
ئی سعادت کی طرف دباؤ دیتی ہے۔ وہ اپنے گھر کی زمی
ن پر ایک نئی زراعت کا آغاز کرتی ہے۔ اس کے پاس ای
ک انتہائی مشکل قانون ہے: کسی بھی غیر مسلموں کی ز
مین کو خریدنے کی اجازت نہیں۔ اس قانون کے باوجود،
اس کا یونسی دوست کے ساتھ ایک نئی سوداگری کا تعل
ق بناتا ہے۔
ایک دن، منیر بibi کی حویلی کی دیواروں پر لکھی ہو
ئی قدیم تاریخ کی ایک چھوٹی سی کتاب ہاتھ میں آتی
ہے۔ وہ اس کو اپنے پوتے کے ساتھ ساتھ دیتی ہے۔ یہ
ایک بیرون ملک واپسی کی ایک داستان ہے، ایک جبری ش
ادی کی داستان۔
منیر بibi کی اس حرکت کے نتیجے میں، یونسی اپنی زن
دگی کے نئے فلسفے کے ساتھ ریاست کے دوسرے حصے میں
رہنے لگتا ہے۔ اس کی والدہ کی گھر کی زمین، اب ایک
مذہبی تقدس کا مرکز بن چکی ہے۔ اس کے گھر میں اب
ایک نئی ہوائیں چل رہی ہیں۔ اس کی زندگی میں اب ای
ک نئی روشنی چمک رہی ہے۔


