لاہور کی پرانی سیدھی سڑک پر ایک ویران حویلی گھنے

شجر کی چھاؤں میں دبی رہی، جس کے دروازے پر "خوات

ین کے لیے ممنوع" کا تختہ لٹکا تھا۔ 1947 کے بعد س

ے وہاں مرد کی آمد پر پابندی تھی، نہ کہ قانونی، ب

لکہ رسم و رواج کی مضبوط دیوار نے ایسا کر دیا تھا

۔ حسن، ایک نوجوان صحافی، جو تقسیم ہند کے متاثرین

کے بچوں کے بارے میں تحقیق کر رہا تھا، اس حویلی

میں داخل ہوا، کیونکہ اطلاع ملی تھی کہ وہاں ایک ص

وفی بزرگ کی آخری تصنیف چھپی ہے۔

حویلی کے اندر، وقت کا بہاؤ بدلا ہوا تھا۔ جیسے ہی

وہ زنانہ محاذ میں داخل ہوا، گھڑیوں کی سوئیاں ال

ٹ گئیں۔ دن رات میں، گلیوں کے منظر بدل گئے۔ لاہور

1952 میں دکھائی دینے لگا، پھر 1960، پھر 1973 —

ہر کمرے میں عصرِ حاضر کا ایک مختلف لمحہ۔ یہ تبدی

لی وقت کی نہیں، ذہن کی تھی: جو شخص بھی زنانہ حصے

میں داخل ہوتا، اس کی شناخت اس کے خاندان کی خوات

ین کے درد سے الجھ جاتی۔

حسن کے کپڑوں میں ایک دوپٹہ ظاہر ہوا، جو اس کے با

پ کی ماں کا تھا، جو تقسیم میں لاپتہ ہو گئی تھی۔

اس کے جوتے غائب ہو گئے، اور اس کے قدموں تلے سرخ

مٹی کا ریتیلا راستہ نمودار ہوا — وہی راستہ جس پر

لاہور سے بھاگتے ہوئے ہزاروں خواتین کے قدم تھے۔

وہ خود کو اپنی دادی کی جان میں محسوس کرنے لگا، ج

س کی آنکھوں سے خوف نے دنیا کو دیکھا تھا۔

اس کی صحافتی تحقیق کا مقصد بدل گیا۔ اب وہ فائلیں

نہیں، بلکہ اپنے وجود کی بنیاد تلاش کر رہا تھا۔

ایک کمرے میں، اسے ایک چراغ ملا، جس کی لو میں صوف

یانہ عشق کا عمل جاری تھا — وہ عشق جو صرف فنا فی

الشیخ نہیں، بلکہ فنا فی النساء تھا، جس میں مرد ا

پنی تمام شناخت خواتین کے درد میں فنا کرتا ہے۔ چر

اغ جلنے سے قبل، اس کی تصویر ایک قدیم آئینے میں ب

دل گئی: وہ اب حسن نہیں، بلکہ "حنا" تھا۔

خوفناک موڑ یہ تھا کہ وہ واپسی کا راستہ نہیں ڈھون

ڈ سکا۔ جیسے ہی وہ دروازے کی طرف بھاگا، حویلی کے

دروازے غائب ہو گئے۔ دیواریں حرکت کرنے لگیں۔ اس ک

ے دماغ میں خواتین کے چیخنے کی آوازیں گونجیں، جنہ

یں کبھی سننے والی دنیا نے انکار کیا تھا۔ وہ زمین

پر گرا، اور اس کی ہڈیاں بدل گئیں — نہ تو مرد، ن

ہ عورت، بلکہ ایک صدائے درد بن گیا، جو حویلی کی د

یواروں میں سمٹ گئی۔

صبح کو، لوگوں نے حویلی کا دروازہ کھلتے دیکھا۔ ان

در کوئی نہیں تھا، مگر صحن میں ایک نئی قبر تھی، ج

س پر کوئی نام نہیں، صرف ایک شعر کندہ تھا:

"تو ہی تو تھا، تو ہی ہے، تو ہی رہے گا،

مگر آج، تو میں سے ایک آنسو بنا۔"

حویلی کا نظام اب بھی چلتا ہے۔ جو بھی مرد زنانہ م

حاذ میں داخل ہوتا ہے، اس کی شناخت خواتین کے الم

کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے۔ عصرِ حاضر کا یہ نیا قانون

— کہ درد کی زبان صرف تب بولی جا سکتی ہے جب شناخ

ت فنا ہو — لاہور کی تاریخ میں ایک خاموش، مگر ہمی

شہ موجود، حقیقت بن گیا۔