ایک گلی میں دو گروہ ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہو

جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ خون بہتا ہے جب ایک چھوٹا س

ا لڑکا، جس کی والدہ 1947 میں ملتان سے فرار ہو گئ

ی تھی، اپنی سالگرہ کے دن اپنی جائیداد کے گرد گھو

منے لگتا ہے۔ وہ اپنی دادی کی کہانیاں سن کر ہمیشہ

اپنی قبیلے کی عزت کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔

اُس کا ایک دوست، جو اب کراچی میں ڈاکٹر ہے، اسے ا

یک خط لے کر آتا ہے۔ خط میں لکھا ہے کہ اس کے قبیل

ے کے ایک شخص نے ایک ہفتہ قبل ایک عورت کو غیر شرع

ی طور پر لے جانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت تک یہ مع

املہ عدالت میں ہے۔ لڑکا اس کی مدد کرنے کے لیے گھ

ر چلا جاتا ہے۔

اُس کے گھر میں ایک اور لڑکا موجود ہے۔ وہ اپنی ما

ں کی جگہ اس کی دوست کے گھر چلا گیا تھا۔ اس کے ہا

تھوں میں ایک چھوٹا سا ہتھیار ہے۔ لڑکا اسے گھر سے

باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کے ہاتھوں

میں ہتھیار ہے۔ وہ اسے مار دیتا ہے۔

اگلے دن، لڑکا اپنی دادی کے گھر جاتا ہے۔ وہ اسے ا

یک کتاب دیتی ہے۔ کتاب میں لکھا ہے کہ 1947 میں جب

لوگ فرار ہو رہے تھے، تو ایک عورت نے اپنی چند چی

زیں ایک درخت میں چھپا دی تھیں۔ وہ درخت اب اس کے

گھر کے قریب ہے۔

لڑکا اس درخت کے پاس جاتا ہے۔ وہ ایک چھوٹا سا ٹکٹ

ڈھونڈتا ہے۔ ٹکٹ میں لکھا ہے: "اگر تم یہ چیزیں ہ

اتھ لگاؤ گے، تو تمہاری قبیلے کی عزت ہلاک ہو جائے

گی۔"

وہ چیزیں ہاتھ لگاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی چھاؤنی م

یں ایک بھاری بارش ہوتی ہے۔ لوگوں کو احساس ہوتا ہ

ے کہ اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہیں گے۔

لڑکا اپنی دادی کے گھر کے قریب بیٹھ جاتا ہے۔ اس ک

ے دل میں اداسی ہے۔ اس کے گرد چھاؤنی کے لوگ اپنی

جگہوں پر واپس آ جاتے ہیں۔