لاہور کی گلیوں میں دھول برس رہی تھی، اور فضا میں

الیکٹرک وائرز کے ساتھ جھولتے ہوئے بلیک باکس لٹک

رہے تھے — حکومت کے "عدلیہ 2.0" کے منصو

بے کا حصہ

، جس نے ہر عدالتی فیصلے کو بائیومیٹرک سینسرز سے

منسلک کر دیا تھا۔ جج محمد ارشد کے دستخط پر مشینی

روشنی چمکتی، اور اس کا خون دباؤ، دل کی دھڑکن، آ

نکھوں کی لرزش ریکارڈ ہوتی۔ یہ نظام کہتا تھا: "سچ

ا فیصلہ وہ ہے جو جسم سے نکلے"۔

ایک صبح، ارشد کو ایک مُسدود مقدمے کا چارج ملا —

سابق وزیرِ اعلیٰ کے قتل کا، جس کی لاش لاہور ہائی

کورٹ کے سامنے سڑک پر پائی گئی تھی، ہاتھ میں قرآ

ن کا چھوٹا نسخہ، منہ بند، آنکھیں کھلی۔ اس کے قات

ل کا نام ایک کمرشل طیارے کے بلیک باکس میں تھا، ج

س نے آخری الفاظ ریکارڈ کیے تھے: "میں نے حکم مان

لیا"۔ لیکن نظام کہتا تھا کہ یہ آواز "غ

یر معروف"

ہے۔

حکومتی نمائندہ اس کی حویلی میں داخل ہوا، جوتے نہ

اتارے، بالکل اس وقت جب وہ ماں کی قبر پر چادر بچ

ھا رہا تھا۔ اس نے ایک فائل چھوڑی، جس میں اس کی ب

یٹی کے میڈیکل کالج کا داخلہ منسوخ کرنے کا نوٹ تھ

ا، اور ایک تصویر — وہی قرآن، جو لاش کے ہاتھ میں

تھا، لیکن اب اس کے گھر کی الماری میں رکھا تھا۔

عدالت میں، جب اس نے فیصلہ سنانے کے لیے ہاتھ اٹھا

یا، تو سسٹم نے روشنیاں بدل دیں — سرخ، پھر کالی۔

اس کا دل تیز دھڑکا، اور مشین نے "غیر مستقل فیصلہ

" کا اعلان کر دیا۔ وہ اٹھا، اپنا نقابہ اتارا، او

ر تمام سینسرز کے سامنے اپنی انگلی سے زبان پر زخم

لگا لیا۔ خون کا قطرہ سینسر پر گرا۔ نظام چلّایا:

"بائیومیٹرک تصدیق: جذباتِ حقیقی"۔

اس نے فیصلہ تحریر کیا — قلم سے، کاغذ پر، بغیر کس

ی سسٹم کے۔ اس میں لکھا: "قاتل وہ ہے جس نے نظام ک

و جھوٹ پر مبنی بنایا"۔ اور آخری لفظ لکھتے ہی، سا

رے بلیک باکس ایک ساتھ بج اٹھے، ہر اسکرین پر ایک

ہی آواز چلّائی: "میں نے حکم مان لیا"۔

رات کو، لاہور کی ہوا میں بجلی کے تاروں سے دھماکے

ہوئے۔ تمام سینسرز خاموش ہو گئے۔ ارشد کی حویلی ک

ے صحن میں، اس کی بیٹی نے ایک پرانی ریڈیو آن کی،

جس میں صرف ایک اسٹیشن تھا — ایک مرد کی آواز، بار

بار کہہ رہی تھی: "فیصلہ سن لیا گیا"۔