پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک صوفی بزرگ، اپنی ہم جما
عت کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سالانہ تقریب میں
حاضر ہوتا ہے۔ اس تقریب میں لوگ اپنی آوازیں اور چ
ندے دیتے ہیں، لیکن اس بار کچھ مختلف ہوتا ہے۔ ایک
خاص آواز اٹھتی ہے، جو اس کے انتقال کے بعد بھی ج
اری رہتی ہے۔
اگلے دن، گاؤں کے لوگوں کو ایک سوال کا جواب تلاش
کرنا پڑتا ہے: اگر ایک شخص مر جاتا ہے تو کیا اس ک
ی آواز بھی مر جاتی ہے؟
جواب کے لیے انہیں ایک ہدایت مل جاتی ہے۔ اس ہدایت
میں ایک نام درج ہوتا ہے، جو اس صوفی کے دشمن کا
ہے۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ اس دشمن نے اس صوفی ک
ے عقیدہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔
لوگ اس نام کی تلاش میں نکل جاتے ہیں، لیکن وہ نام
ایک سائنس فکشن کے شہر میں ہے۔ وہاں دنیا کا نظام
بدل گیا ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں ایک قدرتی قانون
ہے: جو کچھ ہم سن سکتے ہیں، وہی ہمیں دیکھنے کے لی
ے بھی دکھائی دیتا ہے۔
لوگوں کو اس شہر میں داخل ہونے کے لیے ایک قسم کا
"آوازی اجازت نامہ" لازمی ہے۔ اس اجازت
نامہ کے بغ
یر وہ کسی بھی چیز کو نہیں دیکھ سکتے۔
صوفی کی ہم جماعت کے ایک رکن، جو اس تقریب میں شام
ل ہوا تھا، اس اجازت نامہ کے ساتھ شہر میں داخل ہو
تا ہے۔ وہ اس شہر میں ایک قدیم دشمن کو تلاش کرتا
ہے۔ دشمن اس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ صوفی کی ہ
م جماعت ہے۔
دشمن اس رکن کو ایک ایسا ہتھیار دیتا ہے جو اس کی
آواز کو دوبارہ جی ایس کر دیتا ہے۔ اس وقت، اس رکن
کے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے: اگر اس کی آواز جی
ایس ہو جائے تو کیا اس کی ہم جماعت بھی جی ایس ہو
جائے گی؟
اس کے بعد، وہ شہر سے باہر نکلتا ہے۔ اس کے پیچھے
ایک ہدایت چھوڑ دی گئی ہے: اگر کوئی آواز جی ایس ہ
و جائے تو وہ اپنی ہم جماعت کو بھی جی ایس کر دیتا
ہے۔
گاؤں میں لوگوں کو اس ہدایت کا جواب مل جاتا ہے۔ و
ہ اپنی آوازوں کو جی ایس کر دیتے ہیں۔ اس وقت، وہ
ایک نئی دنیا میں ہوتے ہیں۔ وہ دیکھ سکتے ہیں، بول
سکتے ہیں، اور ایک دوسرے کی آوازیں سمجھ سکتے ہیں
۔
انہوں نے اپنی ہم جماعت کو جی ایس کر دیا۔ اب وہ ا
یک نئی طرح کی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔


