1963ء کے آخر میں، لاہور کے قریب ایک چھوٹے سے قصب
ے میں، حکومتِ پاکستان نے "دلِ صاف" منص
وبہ متعارف
کرایا — ایک سائنسی نظام جس میں تمام بالغ شہریوں
کے دلوں میں نانوماشینز شامل کر دی گئیں تاکہ ان
کے جذبات، جھوٹ، اور غداری کو فوری طور پر نگرانی
کیا جا سکے۔ نظام کا مقصد "قومی وحدت" ت
ھا، لیکن ح
قیقت میں یہ مردانہ حکمران طبقے کے لیے ایک آلہ بن
گیا جو بیواؤں، بیٹیوں، اور ناجائز بچوں کے معامل
ات میں فیصلہ کرنے لگا۔
2001ء میں، صفیہ بیگم، ایک بیوہ خاتون جس کا شوہر
1971ء کی جنگ میں فوت ہوا تھا، اپنے والدین کی قدی
م حویلی میں واپس آتی ہے۔ وہاں اس کی ماشینی دل (ج
و حکومت نے نصب کی تھی) اچانک غیر فعال ہو جاتی ہے
۔ گاؤں والے سمجھتے ہیں کہ یہ "عقیدت کی وجہ
سے" ہ
وا ہے — وہ صوفی درباروں میں وقت گزارتی تھی، قرآن
کی تلاوت کرتی تھی، اور ہر شب چراغ جلاتی تھی۔ ما
شینی نظام اس کے دل کی حرکت کو "غیر قانونی تبدیلی
" قرار دیتا ہے۔
حکومت کا مرکزی کنٹرول روم اسے "غیر مستقیم ش
ہری"
اطلاع دیتا ہے۔ اس کی واحد سزا: جبری شادی ایک "مس
تقیم مرد" سے — ایک انجینئر جس کا دل ہمیشہ &
quot;سبز"
رہتا ہے، جو حکومت کے لیے ماشینی نظام کی نگرانی ک
رتا ہے۔ صفیہ کو بلایا جاتا ہے لاہور کے "نوکری خا
نہ" میں، جہاں تمام بیوائیں، طلاق یافتہ، یا ماشین
ی طور پر "خراب" خواتین کو مروجہ مردوں
سے جوڑا جا
تا ہے۔
صفیہ کو حکم ملتا ہے کہ وہ اپنی ماشین دوبارہ چالو
کرے، ورنہ اسے "قومی سلامتی کے خلاف" قر
ار دیا جا
ئے گا۔ وہ سر توڑ مزاحمت کرتی ہے۔ اس کے دل کی ماش
ین، جو صرف "محبت" کی بجائے "عقیدت
" کو محسوس کرتی
ہے، اب "سرخ" نہیں ہوتی — وہ "خامو
ش" ہو جاتی ہے۔
نظام اس کے جذبات کو پڑھ نہیں پاتا۔
حکومت کے انجینئر، جسے اس سے شادی کرنی تھی، اس کے
ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کا دل پہلی بار "سر
خ" ہ
وتا ہے — نہ کہ غصے میں، بلکہ ایک ایسی عاطفی لہر
کی وجہ سے جو ماشینی نظام نے کبھی تصور بھی نہیں ک
ی تھی: رومان۔ وہ اپنی ماشین کو خود ہی نکال دیتا
ہے۔ دونوں کے دل اب "غیر قانونی" ہیں، ل
یکن دونوں
کی دھڑکنیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہیں
۔
حکومت نظام کو عارضی طور پر معطل کرتی ہے۔ لیکن نق
ص پہلے ہی ظاہر ہو چکا ہے: جب دل عقیدت یا عشق میں
ڈوبا ہو، تو ماشین خاموش ہو جاتی ہے۔ ہزاروں بیوا
ؤں، طلاق یافتہ خواتین، اور "غیر مستقیم"
; نوجوانوں
کے دل بھی اسی رات خاموش ہو گئے۔
صفیہ اپنی حویلی واپس جاتی ہے۔ وہ اپنا ماشینی دل
گلی کے آخر میں ایک پرانے چنار کے نیچے دفن کر دیت
ی ہے۔ اس کے بعد، وہ ہر صبح ایک چراغ جلاتی ہے — ا
ب نہیں تلاوت کے لیے، بلکہ اس امید میں کہ کوئی او
ر بھی اپنے دل کی آواز سن لے۔


