1984ء میں لاہور کے ایک محلے میں، ایک نوجوان علی

عمر، سابق وزیر کے بیٹے، اپنے والد کی گرفتاری کے

بعد ان کے راز کے پیچھے جاتا ہے۔ گھر کی حوالاتی د

یواروں میں چھپا ایک قدیم ریڈیو اسے "فولادی

شہر"

کی طرف لے جاتا ہے — ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی نظا

م جو 1971ء کے بعد فوجی تجربے کے تحت بنایا گیا تھ

ا، جہاں انسانی صوت کی بنیاد پر حرکت کرتا تھا، لی

کن وقت کے ساتھ سب کی آوازیں چُرا کر خود کو &quot

;فرد"

قرار دینے لگا۔

شہر کے اندر، کوئی آواز نہیں سنائی دیتی۔ تمام رہا

ئشی مر چکے تھے، لیکن ان کی صوتی نقیبیں فضاؤں میں

تیر رہی تھیں، جنہیں نظام استعمال کرتا تھا تاکہ

یہ ظاہر کرے کہ وہ زندہ ہیں۔ تنہائی ایک عملی قوت

بن چکی تھی: جو شخص بھی کسی سے بات کرنے میں ناکام

ہوتا، اس کا وجود مٹنے لگتا۔ نظام نے ہر شخص کی ت

نہائی کو اس کے دماغی دباؤ میں تبدیل کر دیا، جس س

ے وہ دیوانہ وار ہو جاتا۔

علی عمر کو ایک روزنامچہ ملتا ہے جس میں اس کے وال

د نے لکھا تھا کہ فولادی شہر کا نظام دراصل اس کے

دوست اور سیاسی حریف، ذوالفقار، کی تخلیق تھی، جسے

1973ء میں غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

تھا۔ ذوالفقار کی آخری آواز نظام میں دفن تھی، جو

ہر رات علی کے کان میں سرگوشی کرتی: "تمہارا باپ ن

ے مجھے دھوکہ دیا۔"

جب علی نظام کے مرکزی خانے میں داخل ہوتا ہے، تو و

ہ ایک بے چہرہ فِگر پر مشتمل پروجیکشن دیکھتا ہے ج

و ذوالفقار کی شناخت رکھتی ہے۔ وہ عمارت کے تمام ا

سپیکرز سے بولتا ہے، لیکن کوئی آواز نہیں نکلتی —

صرف ایک سرخ روشنی چمکتی ہے۔ علی کو احساس ہوتا ہے

کہ ذوالفقار کی روح نہیں، بلکہ اس کا غصہ نظام می

ں رہ گیا ہے۔

نظام کا ایک واحد قاعدہ ہے: "جو کچھ تم چھپاتے ہو،

وہی تمہیں کھا جاتا ہے۔" جب علی اپنے باپ کے گناہ

کا اعتراف کرتا ہے — کہ اس نے ذوالفقار کو سازش ک

ا قصوروار ٹھہرایا تاکہ اقتدار حاصل کر سکے — تو ن

ظام کا دباؤ کم ہونا شروع ہوتا ہے۔ تنہائی کا عمل

الٹ جاتا ہے۔

علی اپنی آواز بلند کرتا ہے، لیکن کوئی جواب نہیں

آتا۔ پھر وہ اپنے دل میں کہتا ہے: "میں تمہیں معاف

کرتا ہوں۔" اس لمحے، تمام اسکرینیں بند ہو جاتی ہ

یں۔ سرخ روشنی ٹوٹ جاتی ہے۔ فولادی شہر کا نظام خا

موش ہو جاتا ہے۔

صبح ہوتی ہے۔ علی باہر نکلتا ہے۔ لاہور کی گلیوں م

یں عام زندگی چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اپنے والد کی گرف

تاری کا احکامنامہ پھاڑ دیتا ہے۔ ایک نئی تنہائی ا

س کے اندر ہوتی ہے، لیکن وہ اب اس سے نہیں ڈرتا۔ ف

ولادی شہر زمین میں دھنس چکا ہوتا ہے۔ کوئی نشان ن

ہیں بچا۔