1947 کے بعد کے سال۔ لاہور کی ایک ویران حویلی میں
برطانوی ماہرِ تعمیرات نے ایک آئینہ بنایا تھا جو
صرف مردوں کی تصویر دکھاتا تھا — عورتیں، بچے، جا
نور، سب اس میں خالی جگہ تھے۔ یہ صرف شیشہ نہیں تھ
ا؛ یہ "مردانہ" کائنات کا نظام تھا، جس
میں حقیقت
کا تعین مرد کی موجودگی سے ہوتا تھا۔ جب کوئی مرد
آئینے کے سامنے ہوتا، تو دنیا روشن ہوتی؛ بغیر مرد
کے، سب کچھ غائب ہو جاتا۔
2003 میں، ریٹائرڈ میجر عامر، تقسیم ہند کے زخم اٹ
ھائے، لاہور واپس آیا۔ اس کا بھائی، جو حویلی کا آ
خری وارث تھا، غیر معمولی طور پر مر گیا تھا — بدن
پر کوئی نشان نہیں، لیکن چہرہ خوف زدہ۔ عامر نے ح
ویلی میں قدم رکھا تو آئینہ چمک اٹھا۔ وہیں، اس کی
اپنی عکاسی میں اس نے ایک اور شخص دیکھا — ایک نو
جوان فوجی، جس کا چہرہ اس کے بیٹے جواد جیسا تھا،
جو کشمیر فرنٹ پر لاپتہ ہوا تھا۔
حویلی میں وقت کا بہاؤ بدل گیا۔ دن چار گھنٹے کا ہ
و گیا، رات دائم رہنے لگی۔ آئینہ صرف ان مردوں کو
ظاہر کرتا جن کا خون نہ بہا ہو — بے گناہ، معصوم،
یا بدلہ لینے والے؟ عامر نے قاعدہ سمجھ لیا: جو مر
د خون بہاتا، آئینے میں غائب ہو جاتا۔ اس نے تجربہ
کیا — ایک بلی کو مارا، لاش چھوڑ دی — اگلے دن وہ
آئینے میں نظر نہ آیا۔ لیکن اس کے بیٹے کی عکاسی
اب بھی تھی۔ مطلب: جواد نے کسی کا خون نہیں بہایا
تھا۔
عامر نے فیصلہ کیا: وہ اپنے بھائی کا قاتل ڈھونڈے
گا، چاہے اس کی روح بھی ختم ہو جائے۔ اس نے حویلی
کے تمام سابق ملازمین کو بلایا۔ ایک ایک کر کے، وہ
انہیں آئینے کے سامنے لا کر دیکھتا۔ تین غائب ہو
گئے — قاتل تھے۔ چوتھا، بوڑھا نوکر حسین، جس نے 19
47 میں ہندو خاندان کو بچانے کی کوشش کی تھی، آئین
ے میں واضح تھا۔ اس کے ہاتھ صاف تھے۔
جب عامر نے آخری مرحلے میں آئینے کے سامنے خود کو
دیکھا، تو اس کی عکاسی غائب ہو چکی تھی — وہ 1971
میں بغاوت دبانے میں شامل تھا۔ لیکن پھر، اس کے بی
ٹے کی تصویر نے ہاتھ بڑھایا، اس کے سینے پر ہاتھ ر
کھا، اور ایک الفاظ کے بغیر اعترافِ محبت ہوا — نہ
نفرت، نہ الزام، صرف رحم۔
آئینہ ٹوٹ گیا۔ رات ختم ہوئی۔ دن لوٹ آیا۔ حویلی م
یں عورتوں اور بچوں کی آوازیں گونجنے لگیں — وہ اب
دیکھی جا سکتی تھیں۔ عامر گھسیٹتا ہوا باہر نکلا،
آسمان کی طرف دیکھا، اور ایک بار پھر فوجی کی طرح
سیدھا کھڑا ہو گیا — لیکن اب اس کے ہاتھ میں بندو
ق نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی تصویر تھی: جواد، بچپن
کی عمر میں، مسکراتے ہوئے۔


